بلتستان کے ساتھ حکومت اور مقتدر حلقوں کا رویہ ، بلتستان کے عوام نے مطالبہ کیا پولیس ٹریننگ سینٹر کو بحال کریں ، جواب میں بلتستان کے پولیس جوانوں کو گلگت چلاس داریل ہنزہ نگر ٹرانسفر کیا گیا ، شتونگ منصوبہ پر کام کرنے کا مطالبہ کیا جواب میں منصوبے کو ہی ختم کیا گیا ، شغر تھنگ ہرپوہ غواڑی پاؤر پراجیکٹ پر کام کا مطالبہ کیا گیا تو تیرہ سالوں میں التوا میں ڈال کر رکھا گیاہے ، سکردو روڈ کی مرمت کا مطالبہ کیا تو چھ سالوں سے مذید ٹوڑ پھوڑ کر ایک تورا بورا بناکر رکھا گیا ہے ، سول سوسائٹی نے ایک ایس ڈی او کے خلاف پریس کانفرنس کی تو اس کو دوسرےدن ایکسین بنادیا ، بلتستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے بلتستان یونیورسٹی کے وی سی اور رجسٹرار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تو حکومت اور اسٹبلشمنٹ ان کے پشت پر کھڑے ہوکر انہیں مذید من مانی کی اجازت دیا گیا ہے ، سول سوسائٹی بلتستان نے پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا تو مزید اضافہ کررہا ہے ، سکردو کے منصوبوں کا بروقت ٹینڈرز کا مطالبہ کیا تو ٹینڈرز اسلام آباد لے جاکر مذید تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کا مطالبہ کیا تو پوری انتظامیہ بجلی دلانے کے بجائے فیوزنگ اور لائن کاٹنے میں مصروف ہیں جبکہ آفیسروں کے گھروں میں سپیشل لائن موجود ہے ، چلاس سے دو سو ٹرک جلانے کی لکڑی لانے کا مطالبہ کیا گیا تو سکردو منڈی میں موجود لکڑی کا ریٹ بارہ سو روپے کردیا گیا ، سکردو ہسپتال میں سہولیات کا مطالبہ کیا گیا تو سی ٹی سکین مشین اور ایم آر آئی مشین تک نہیں دیا جارہا ہے اور تمام ٹیسٹ پرائیوٹ لیبارٹری میں کروایا جا رہا ہے ، سکردو میں کالجزز کا اضافے کا مطالبہ کیا گیا تو ڈائیریکٹر کالجزز کو ہی گلگت واپس لے گیا ہے ، کے ائی یو کا سکردو میں کیمپس کا مطالبہ کیا گیا تو کے ائی یو کا سب آفس کا خاتمہ کی باتیں چل رہا ہے ، لگتا ہے ریاست بلتستان کے عوام کو ریاست کا شہری تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، بلتستان کے ساتھ خصوصی مہربانیاں سمجھ سے بالاتر ہے ، اگر اسی طرح بلتستان کے عوام کو مایوس اور ظلم و زیادتی جاری رکھا تو اس کے بروئے نتائج بھی نکل سکتا ہے اس لئے حکومت پاکستان کے تھینک ٹینک اور اداروں کو چاہیئے کہ بلتستان کے ساتھ زیادتیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہاں کے عوام کے جائز تمام مطالبات کو حل کرنا چاہیئے یہاں کے عوام کو حقوق مانگنے پر را کا ایجنٹ قرار دینے کے بجائے عوام کی مسائل حل کریں یہاں کے عوام عمران خان سے مطالبات کررہا ہے مودی سے نہیں اگر مودی سے مطالبات کیا تو غدار ہوگا اور ریاست پاکستان کے خلاف زبان استعمال نہیں کررہا ہے صرف حکمرانوں سے حقوق مانگنا جرم نہیں ہے اور غدار بھی نہیں ہوسکتا ہے
تحریر نجف علی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟