وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی کا طریقہ واردات.

0 0

ذرے کے زحم دل پہ توجہ کئے بغیر
درمان درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم
اس شعر کے مصداق بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف اٹھنے والی آوازیں زیادہ تر اصل مسئلے کے بجائے فرعی مسائل پر ہی مرکوز ہیں اور دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی چارٹر میں موجود سقم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام اور مقتدر حلقوں کی آنکھ میں دھونک جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوامی آگاہی کے لئے کچھ معروضات پیش خدمت ہیں۔ ان نکات کو سمجھنا یونیورسٹی کی ترقی اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے۔
1. یونیورسٹی کے مقتدر اداروں کی تشکیل کا طریقہ کار ملک کی دیگر بڑی جامعات کے برعکس غیر متوازن ہے اور وی سی کو غیر ضروری اختیارات دئے گئے ہیں۔
2. دیگر جامعات کے برعکس بلتستان یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کا ڈھانچہ نہایت ناقص ہے جس کے سارے اراکین یونیورسٹی ہی کے ملازمین و افسران ہیں جو وی سی کے ماتحت کرتے ہیں لہذا ان سے وی سی مخالفت میں کسی فیصلے کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
3. دیگر جامعات کے برعکس بلتستان یونیورسٹی میں سینڈیکیٹ کے بعض اختیارات سینیٹ کے حوالے کئے گئے ہیں جس میں تعیناتیاں شامل ہیں۔ یہ قانونی طور پر درست نہیں ہے کہ برطرفی کے اختیارات سینڈیکیٹ کے پاس ہوں اور تعنیات کرنے کا اختیار سینیٹ کے پاس ہو۔
4. سلیکشن بورڈ کے کئي اراکین وائس چانسلر پروفیسر محمد نعیم خان کے متعلقہ مضمون سے وابستگی رکھنے والے دوست احباب ہیں جو وی سی کی مرضی کے بغیر کبھی بھی آزادانہ طور پر فیصلے نہیں کر سکتے لہذا اس متنازعہ سلیکشن بورڈ کے ذریعے صرف پلانٹڈ انٹرویوز ہی منعقد کئے گئے ہیں جن میں بظاہر قانونی طریقے سے من پسند افراد کو نوازا گیا ہے۔
5. ایک کم تعلیم یافتہ اور کم تجربہ کار شخص کو اعلی تعلیم یافتہ اور وسیع تجربہ رکھنے والے افراد پر ترجیح دے کر اس کو رجسٹرار لگایا گیا جس پر وسیع پیمانے پر لوگوں میں بے چینی پھیلی اور اس اقدام کی مخالفت کی گئی۔ اس مخالفت کو دبانے کے لئے کبھی لسانی اور کھبی مذہبی رنگ دے کر اختلافات کو ہوا دینے کی مذموم کوشش کی گئی اور اب وی سی کے دوست احباب پر مشتمل سلیکشن بورڈ کی چھتری تلے پناہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
6. رجسٹرار کے امیدواروں میں بلتستان، گلگت، خیبر پختون خوا اور پنجاب کے پی ایچ ڈی کے حامل تجربہ کار افراد کو ریجیکٹ کر کے ایک خاص شخص کو ہی منتخب کیا گیا جو صرف ایم بی اے پاس ہے جس سے پورامعاملہ مشکوک ہوا ہے۔
7. بعض لوگ یہ اعتراض کر رہے ہیں کہ جن پی ایچ ڈی امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ کیوں خاموش ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ان امیدواروں کی اکثریت یونیورسٹی انتظامیہ کے غیرقانونی اقدامات اور میرٹ ک پامالی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ لیکن یہ در اصل کسی فرد یا افراد کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ بلتستان یونیورسٹی ، بلتستان کے عوام اور یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے کیونکہ نااہل سفارشی افراد کے ساتھ یونیورسٹی کو عالمی معیار کے تحت آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ لوگوں کا اصل مطالبہ میرٹ کی بحالی، قانون کی پاسداری اور تدریس و تحقیق کے معیار کی بلندی کے لئے ہونا چاہئے۔
8. میرا خیال ہے ایک صحت مندانہ مسابقتی سلیکشن بورڈ کے بعد اگر زیادہ قابل اور اہل افراد کو منتخب کیا جائے جو چاہے کسی بھی مسلک یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں تو کسی بھی اسکالر یا شخص کو اعتراض نہیں ہوگا لیکن یہاں مسلسل غیر معیاری اور غیر مقبول فیصلوں کے ذریعے یونیورسٹی کے معیار کو گرایا جا رہا ہے جو خود یونیورسٹی کے ساتھ زیادتی ہے۔
ان نکات کی روشنی میں ہمارے مطالبات یہ ہونے چاہئيں:
1. یونیورسٹی کے آئینی اداروں میں شفاف طریقے سے اراکین کو تعینات کیا جائے۔
2. سلیکشن بورڈ کے ممبران کی جانچ پڑتال کی جائے اور ان کے وی سی کے دوست ثابت ہونے پر کئے گئے انٹرویوز کو منسوخ کیا جائے۔
3. یونیورسٹی کے چارٹر کو قائد اعظم یونیورسٹی یا کراچی یونیورسٹی کے طرز پر دوبارہ مرتب کیا جائے۔
4. یونیورسٹی میں میرٹ کو ہر حال میں بحال کیا جائے۔
5. تمام اداروں کا جلد از جلد قیام عمل میں لایا جائے۔
6. پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی اسامیاں جلد از جلد پر کی جائیں۔
7. یونیورسٹی میں فرد واحد کی اجارہ داری کا خاتمہ کیا جائے۔
8. غیر قانونی تعیناتیاں فی الفور ختم کی جائیں۔

تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website