گلگت (تحریر نیوز) سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا یہی وجہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میں سوشل میڈیا ایک متبادل ذرائع ابلاغ بن چکی ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان کیلئے چونکہ یہ چیزیں ایک نئی ایجاد ہے لیکن وہ بھی پاکستان کے دیگر سیاست دانوں کی طرح سوشل میڈیا پر بہت ایکٹو نظر آتا ہے۔حال ہی انہوں نے ٹیوٹر بھی باقاعدہ طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔ آج انہوں جدید طرز تعمیر پر بننے والے ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت کی تھری ڈی تصاویر اپنے ٹیوٹر پر شیئر کیا ہے جو یقیناًاچھی خبر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا گلگت بلتستان صرف کشروٹ اور گلگت سٹی کو کہتے ہیں؟ یا دیگر اضلاع میں بھی عوام رہتے ہیں اور انکے مسائل کو حل کرنا بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ اس وقت نئے بننے والے اضلاع کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں سرکاری ہسپتالوں میں پرچی دینے تک کیلئے وزراء سفارش کرتے ہیں،عوام کیلئے دوائیوں کا حصول ایک خواب بن چکی ہے لیکن وزیر اعلیٰ کی نظروں سے اوجھل نظر آتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا