سکردو (ٹی این این) گلگت بلتستان الیکشن 2020 کے حوالے سے ملکی میڈیا پر مسلسل تکرار سے یہ بات کی جارہی تھی کہ گلگت بلتستان کے عوام نظریہ یا پارٹی کے بجائے حکومت کو ووٹ دیتے ہیں. میڈیا پر کئی نامور تجزیہ نگاروں نے اس بات کا برملا اظہار کیا تھا کہ اس بار بھی بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی جانب سے الیکشن کمپئین میں حصہ لینے کے باوجود گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کلین سوئپ کرے گی کیونکہ یہاں عوام اپنے مسائل کی حل کیلئے وفاق کو ووٹ دیتے ہیں.
لیکن الیکشن کے بعد یہ تمام دعوے دھرے رہ گئے اور عوام نے وفاق کو مسترد کر آزاد امیدوار تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی پارٹی کے مقابلے میں عوام سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے. مقامی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے قیادت کی جانب سے میرٹ پر ٹکٹوں کی تقیسم کے بجائے الیکٹیبل کے نام پر دیگر پارٹیوں کو ٹکٹ دیکر نظریاتی کارکنوں نظر انداز کرنا بتایا جاتا ہے. پورے گلگت بلتستان وہ تمام لوگ جن میں فدا محمد ناشاد سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو(وزیراعلٰی)موجودہ اسپیکر، سابق صوبائی وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی ، حیدرخان، سابق وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال اور پیپلزپارٹی کے وزیر حسن سابق رکن اسمبلی شامل ہیں جنکو آخری دنوں میں تحریک انصاف میں شامل کروایا تھا. اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے مجلس وحدت المسلمین اور اسلامی تحریک سے بھی سیاسی اتحاد کی تھی لیکن سیاسی اتحاد کے نتیجے میں سکردو حلقہ نمبر 2 سے ایک امیدوار کم مارجن کے ساتھ کامیاب ہوئے اور باقی حلقوں سے تحریک اسلامی کا مکمل صفایا ہوگیا اور ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے. یوں گلگت بلتستان کے عوام پہلی بار مذہبی سیاست کو بھی ایک طرح سے مسترد کرتے ہوئے عوامی نمائندوں کو کامیاب بنایا.
گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار عوام نے تاریخ رقم کردی.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا