گلگت بلتستان میں سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے. اس موقع پر وفاق سے تشریف لائے ہوئے سیاسی اکابرین، چوٹی کے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے یہاں کے محدود اختیارات اور حیثیت کے حامل لوکل اسمبلی الیکشن میں دلچسپی کئی حوالوں سے معنی خیز ہے. بطور گلگت بلتستان کے شہری اور سیاسی کارکن کے ان چیدہ چیدہ رہنماؤں کی تشریف آوری کو نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں اور یہاں کے سیاسی طور پر بانجھ معاشرے میں مسابقت کی رجحان کا سبب بننے پر عزت و تکریم دینا اپنے لئے فرض سمجھتا ہوں لیکن پس دیوار یہ سب کچھ ان سیاسی زعماء، پاکستانی سیاست کے اکابرین، اور رہنماؤں کی جانب سے سب کچھ سادھ، شفاف اور نیک نیتی نظر نہیں آتی ہے. بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا ہرگز نہ ہوگا کہ ان زعماء، اکابرین کی تشریف آوری کی وجوہات یا اسباب سے نتیجہ کیا نکالنا ہے خود ان کو بھی کچھ پتہ نہیں ہے. ہاں البتہ یہاں کے لوگوں کو طرح طرح کی ایمانداری، پکے اور پتھر لوہے کی طرح کے جیالے، یوتھیے، ٹائیگر،شیر ہونے کی گھمنڈی پیدا کرنا چی معنی دارد جبکہ یہ لوگ خود نہ پکے جیالے ہیں ، نہ ہی یوتھیے ہیں اور نہ ہی شیر ہیں. چونکہ گلگت بلتستان کے نہایت ہی سیاسی طور پر زرخیز علاقہ بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب انتخابی دورہ کرکے واپس جاچکے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی کاوشوں سے سندھ میں 60 سے زائد میڈیکل سیٹوں اور سینکڑوں ٹیکنیکل یا انجینئرنگ کی سیٹوں پر سالانہ داخلوں کا ایشو ایڈریس ہونا اور شنوائی ہونا کارکنوں اور لیڈر شپ میں تعلق اور روابط کو ظاہر کرتا ہے اور حکومتی اکابرین میں وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف خانہ پوری کرکے گلگت سے واپس چلے گئے. چونکہ جناب وزیراعظم عمران خان صاحب سے گلگت بلتستان سطح کے کسی سیاسی کارکن یا لیڈر شپ سے براہ راست رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوامی مسائل کو ایڈریس نہ کرسکے اور پہلے سے گلگت میں تیار شدہ عبوری صوبہ تقریر کو یاد کرنے کے بعد مائیک پر آکر جھاڑ کر معاملہ کو ختم کیا. تحریک انصاف کی کسی لیڈر شپ سے کوئی نشست، پارٹی سطح پر اسٹبلشمنٹ کی چھتری و پہرہ داری سے ہٹ کر کوئی ملاقات نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی ایسا لیڈر وہاں موجود تھا کہ وزیراعظم صاحب کو گلگت بلتستان کے ضمنی حالات پر بریف کرتے. اس لئے پارٹی کی ساکھ بنانا اب وزیر امور گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور کے بھاری کاندھوں پر ہے. لیکن وہ کسی بھی اجتماع کو قائل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتے ہیں اسکے بھی وجوہات وہی ہیں جو جناب وزیراعظم کے ساتھ پیش آیا یعنی سنجیدہ لیڈر شپ کا نہ ہونا جو یہاں کے عوامی مفاد کو سمجھتے ہوں. اس لئے گنڈاپور صاحب الزامات کی سیاست کو اپنی تقریر کا وقت پورا کرنے کے لیے بھرپور استعمال کررہے ہیں جس کا نقصان گلگت بلتستان کے عوام کو بھی ہوگا اور تحریک انصاف کو بھی خمیازہ بھگتنا پڑے گا کیونکہ اختیارات کے حامل شخصیات کو الزامات پڑھاکر وقت ضائع کرنا سنجیدہ لیڈرشپ کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے. حکومتی و اختیارات کے حامل افراد کو عوام کو قائل کرنے کے لیے الزامات کی نہیں بنیادی مسائل کے حل پیش کرنا چاہیے جوکہ تحریک انصاف میں کہیں نظر نہیں آتا ہے. اس لیے جو وہ چاہے سو وہی بھگتے. اب تیسری پوزیشن کی لیڈرشپ میں محترمہ مریم نواز صاحبہ اور جناب خاقان عباسی صاحب آج ہی بلتستان میں انتخابی دورے پر پہنچے ہیں اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت پانچ سال پوری کرکے قدرے یہاں کے بڑے بڑے پروجیکٹس کا کریڈٹ حفیظ الرحمن کی وساطت سے جناب نواز کو جاتا ہے جس میں گلگت سکردو روڈ، بلتستان یونیورسٹی سمیت آر سی سی بریجز اور عالم بریج و ایوب بریج کی تکمیل بھی نواشریف کی کارکردگی کے کھاتے میں شمار کیا جاتا ہے لیکن کہتے ہیں کہ سو کام درست کرے لیکن ایک کام خراب ہوجائے تو باقی سب لوگ بھول جاتے ہیں یہی کچھ جناب حفیظ الرحمن نے کیا انہوں نے سب پہلے گلگت سکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او کے حوالے کر کے اس عظیم منصوبہ کو موت کا کنواں بنانے میں کردار ادا کیااس کے علاوہ عوامی زمینوں کی چھینا چھپٹی حفیظ الرحمن کے دور میں خصوصاً بلتستان ریجن میں عروج پر رہی لیکن نہ جانے کیوں حفیظ الرحمن نے زمینوں پر سرکاری قبضے کے معاملے پر عوام کے بجائے سرکارکی سرپرستی میں جاری قبضہ گروپ کے حامی ہونے کا تاثر دیا جس سے انکی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے نواز شریف کی پارٹی بدنام ہوئی. اب محترمہ مریم نواز صاحبہ کے پاس بلتستان ریجن میں کارکردگی جتانے کے لیے کچھ اس لیے نہیں ہے کہ گلگت سکردو روڈ اگرچہ نواز شریف کا رکھا منصوبہ تھا مگر حفیظ الرحمن صاحب نے اپنی حکومت بنانے کے چکر میں ایف ڈبلیو کو دیکر پی ڈبلیوڈی سے بھی زیادہ ناقص کام کا ریکارڈ اپنے نام کرایا. اس لئے محترمہ مریم نواز صاحبہ بھی پاکستان کے سیاسی رقابت کے الزامات کو اپنی تقاریر کا عنوان بناکر وقت پورا کررہی ہیں. اگر مسلم لیگ ن کی لوکل لیڈر شپ یہاں کے مسنگ فیسلیٹیز کے حوالے سے بریف کرتے تو اگرچہ مریم نواز صاحبہ حکومت میں تو نہیں ہے نہ ہی انکے پاس اختیارات ہیں اس انکی طرف سے سہولیات کی دستیابی کے لیے ڈیمانڈ کرسکتی ہیں یا عوام انکی پارٹی کو منتخب کریں تو ترجیحات کیا ہیں انکو تعین کرسکتے ہیں.
اس لیے بلتستان سطح کی ترجیحات اور یہاں کے عوام کے ڈیمانڈز یہ ہیں
1 بلتستان میں میڈیکل کالج کا قیام
2 بلتستان میں انجینئرنگ کالج کا قیام
3. بلتستان میں پیٹرولیم بلک ڈپو کا قیام
4. بلتستان میں ایس کام کی مناپلی ختم کرکے تمام موبائل کمپنیوں کو فور جی 5 جی سروس فراہمی کی اجازت
5. دریائے سندھ رائلٹی جی بی حکومت کے خزانے میں جمع کرنا
6. گلگت بلتستان کے فضائی حدود کی رائلٹی گلگت بلتستان کے حوالے کرنا
7. تمام غیر مقامیوں کی لیززکو ناجائز اور غیر قانونی قرار دیکر منسوخی
8. شونٹر پاس کو جلد از جلد تعمیر
9.سکردو کارگل روڈ کھولنا
10. ترتوک، چھوبٹ سائیڈ سے بارڈر کھولنا
11. عوامی زمینوں پر جبری قبضے کا خاتمہ
12. سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی
13. شتونگ نالہ ڈائیورجن
14. پی آئی اے کے کرایوں میں کمی اور دیگر آئر لائنز کو سکردو میں فلائٹ کی اجازت
15. سکردو میں سیمنٹ فیکٹری کا قیام
16. سکردو میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام
17. سکردو میں آئی ٹی پارک کا قیام
18. بلتستان کے ہر تحصیل میں وومن کالج اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام
19. گلگت سکردو روڈ پر 8 جگہوں پر نقشہ کے مطابق ٹنلز کی تعمیر
20. مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت، پاکستان، کشمیر کے علاوہ گلگت بلتستان کو چوتھے فریق کے طور پر شامل کرنا
21. اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان میں خود مختار اتھارٹی کے قیام میں تعاون
22. گلگت بلتستان کے سول سروس کیڈر میں وفاق سے ناجائز طور پر 60فیصد،50فیصد اور 30 فیصد سکیل 22،سکیل 20،سکیل 18،سکیل 17 کے افسران کی تعیناتیوں کا خاتمہ تاکہ گلگت بلتستان کے سول کیڈر افسران میں وفاق سے مسلط کردہ افراد کی وجہ سے نفرت میں کمی آئے.
23. تمام قدیم تجارتی راہداریوں کو کھولنے کیلئے اقدامات تاکہ یہاں کی مسلم آبادی میں بھی یہ تاثر پیدا نہ ہوں کہ پاکستان کے پاس یہاں کے مسلمانوں سے زیادہ بھارت کے سکھوں سے ہمدردی نہیں ہے.
24. سی پیک روٹس پر چنگی لینے کے تمام تر اختیارات اور چونگیاں گلگت بلتستان حکومت کی ہوں.
25. سی پیک پروٹیکشن فورس تمام اہلکار گلگت بلتستان سے بھرتی کئے جائیں
26. دیامر بھاشا ڈیم کی رائلٹی گلگت بلتستان کو جمع کرنے کا موقع فراہم ہوں
27.دیامر بھاشا ڈیم کی تمام ملازمتوں پر سب سے پہلے گھر بار، زمین، جنگل، قبرستان، ثقافت سے محروم ہونے والے دیامر کے غیور نوجوان کو بھرتی کیاجائے.
28. بلتستان ریجن کے ڈسٹرکٹ میں زچہ بچہ سنٹر، گائنی ڈاکٹر کی تعیناتی، الٹرساؤنڈ مشین، ایم آرآئ مشین، سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی شامل ہیں.
29. تمام موبائل کمپنیاں جو متنازعہ علاقے سے غیرقانونی طورپر ناجائز ٹیکس بٹورہی ہی کی واپسی کے لئے اقدامات اور آئندہ کیلئے کیلئے کسی بھی کے نہ لینے کی یقین دہانی پر سروس فراہمی کی اجازت.
30. گلگت بلتستان میں 9 کھرب سے زائد کی گڈز تجارتی سامان فروخت ہوتی ہیں جن 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 2 فیصد انکم ٹیکس ڈائریکٹ کاٹا ہوا ہوتا ہے اس لئے متنازعہ علاقہ ہونے اور بے اختیار قوم علاقہ ہونے، حق حکمرانی نہ ہونے اور محکوم عوام ہونے پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق دوسرے تیسر درجے کی شہری کی حیثیت سے ٹیکسز سے استثناء کے قوانین پر عملدرآمد کرتے ہوئے 9 کھرب روپے پر 2 فیصد انکم کٹوتیوں کو واپس خزانہ گلگت بلتستان کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں جو کہ تقریباً 250 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں.
تحریر. سید انور علی کاظمی
رہنما سول مومنٹ بلتستان
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟