میراووٹ میری ضمیرکی آواز۔۔۔

0 0

بنیِ انسان جب سے اس سرزمین پر رونما ہوا تب سے گروہ کی شکل میں سکونیت اختیار کی اور اسی گروہ میں سے ایک با اعتماد، باصلاحیت یا طاقتور شخض کو گروہ کا لیڈر یا سربراہ کے طور پر انتخاب کیا اور اس کی رہنمائی میں زندگی بسر کرنے لگے۔ وہ لیڈر ان کے خوشی اور غم کا ساتھی ہوتا۔اس طرز حکومت کو انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ تقویت ملتی گئی اور حکمرانی کے تین بنیادی اقسام نے جنم لیا۔جس میں بادشاہت، امریت اور جمہوریت قابل ذکر ہیں۔ ان تینوں میں سب سے پائیدار اور مقبولیت جمہوریت کو تصور کیا جاتا ہے، جس میں انسانوں نے اپنے روزمرہ کے مسائل اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایک ایسے لیڈر کا انتخاب کیا جو ان کے مسائل اور ضروریات کا آسان راستہ تلاش کرسکے۔
اس طرز حکمرانی کو اسلام نے اور بھی جلا بخشی جب رسول پاکﷺ اپنی حکومت کو وہ خوبصوت چہرہ عنایت کی جس کی مثال تا قیامت یاد رکھی جائے گی۔پاکستان کے آئین کے مطابق ہر سربراہ کا کردار قرآن پاک اور رسولﷺ کی سنت کے عین مطابق ہونی چاہیے۔
گلگت بلتستان جو پاکستان کا غیر آئینی خطہ ہے جس کے عوام ہمیشہ سے پاکستان سے محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔لیکن پاکستانی حکمرانوں نے کبھی بھی اس محبت اور جذبے کی قدر نہیں کی اور ہر آئینی حقوق دینے سے انکار کرتے رہیں۔ لیکن اب 15 نومبر 2020 تک گلگت بلتستان کے عوام ہر پاکستان سیاسی پارٹی جان سے بھی زیادہ پیارا اور آنکھوں کا تارہ بنا ہوا ہے۔ یہ وہی سیاسی پارٹیز ہیں جنہوں نے جی بی کے عوام ہروقت فریب کے سوا کچھ نہیں دیا۔ان صاحبان نے ہنزہ کے عوام کے پیاس بُچانے کے لئے پہاڈی سے پانی کا فوارہ نکالنا تھا ، لیکن افسوس 5 سال میں ان کو موقع نہیں ملا اور اب یہ پارٹیز دوبارہ خدمت کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔اور تو اور اپنی جائز حق مانگنے پر باپ اور بیٹے کو گولیوں کا تحفہ دے کر ہنزہ کو ATA کا داغ دیا جسکی وجہ سے آج بھی خطے کے 12 اسیران جیل میں بے گناہ سزا کاٹ رہے ہیں،لیکن اب ان پارٹیز کو علاقے کے خدمت کاپھر سے موقع چاہیے ۔اور حالیہ سالوں تبدیلی کی ہوا کچھ ایسی چلی کہ ہر گھر میں مہنگائی کی وجہ خوشحال سے خوشحال گھر بھی بد حالی کی دلدل میںڈوتا نظر آرہا ہے۔ ان پارٹیز کے نمائندے جیتنے پر عوام کی خدمت کیلئے اسلام آباد رخ کرتے اور جو ہار جاتے ہیں وہ گالی کا تحفہ ہاتھ میں تھماکے خطے کو خیر آباد کہتے ہیں۔
انتخابات کے نام پر قدرتی خوبصورتی کی تباہی بھی انہی پارٹیز کی مرہون منت ہے۔ ان پارٹیز کے نمائندے کوپانچ سال میں صرف ایک مہینے کیلئے عوامی خدمت کا بُخار سر چڑ بولتا ہے۔ اور تو اور علاقے کے عوام گھر بار چھوڑ کر اس ان پارٹیز کے مشہوری میں اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ اگر غلطی سے بھی کچھ زبان سے نکلا تو بس جیسا کہ ان کو جلتی تووے پر رکھ دیا ہو، اس کے بعد یہ لوگ نہ رشتے کو قدرکرتے ہیں اور نہ ہی علاقائی احترام کوکوئی خیال رکھتے ہیں۔
بہر حال میری الیجا ہے ان دوستوں سے کہ 15 نومبر 2020 کے بعد آپ لوگوں نے اسی علاقے میں انہی لوگوں کے ساتھ رہنا ہے، یہی لوگ آپ کے خوشی و غم میں آپ کے ساتھی ہیں، کچھ دنوں کی تماشے کیلئے اپنے گھر (گلگت بلتستان) کو تباہ نہ کرے۔
ٓاللہ پاک ہم سب کو فریب اور دھوکے سے حفاظت میں رکھیں اور ایک دوسرے عزت کرنے کی توفیق دے۔ (امین)
تحریر: وجاہت عالم

نوٹ: غیر ضروری بینرز اور جھنڈیاں قدرتی خوبصورتی کو نقصاندہ ہیں ان کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔کیونکہ آ پ کی خدمت ہی آپ کی جیت کی نشاں ہوسکتی ہیں نہ کہ جھنڈیاں اور بینرز شکریہ۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website