پرانے سیاسی مداریوں کے باری کی سیاست کو عوام نے اس دفعہ دیکھتے ہی دیکھتے انکی بازی الٹ دئیے، مسلم لیگ ن کی طرفسے رضالحق مدنی کو یونہی ٹکٹ جاری نہیں کئے گئے، حلقے کے نبض دیکھنے والوں نے اس نوجوان کی سماجی اور سیاسی ولولے کو بھانپ کر ٹکٹ دیا ہے۔ کیونکہ کریس سے سلنگ تک پھیلے 29000 رجسٹرڈ ووٹس پر مشتمل یہ حلقہ انتہائی اہمیت کا حامل حلقہ ہے
جہاں سے پی پی پی کے محمد جعفر اور ثنائی صاحب سابقہ وزیر تعلیم سمیت کئی آذاد امیدوار کھڑے ہیں جن میں مشتاق حسین بھی ہیں بلغار اور کریس سے ایک ایک نوجوان امیدوار اور بھی کھڑے ہیں۔ امید ہے ان تینوں نوجوانوں میں جاری مکالمہ ایک کامیاب اختتامیہ کی طرف چل نکلے۔
کریس سے کونیس تک لوئر حلقہ جہاں چودہ ہزار ووٹرز ہیں، اور اپر حلقہ بلغار تھلے کھرکو سیلینگ جہاں پندرہ ہزار ووٹرز بستے ہیں، پر مشتمل ہے۔
اس الیکشن میں نوجوان رضا الحق مدنی نے انتخابی سیاست میں علاقائی حقوق کی بات کی نئے ضلعے کے اضافے کو اپنے منشور کا حصہ بنایا، وہاں نوجوانوں کی روزگار کے لئے ایک جامع ورک ایبل منشور لانچ کیا جو کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کا ایسی سیاسی سوچ کے ساتھ پہلا منشور ہے۔
انکے اس عمل سے حلقے کے نوجوان جوق در جوق انکے قافلے میں شامل ہورہے ہیں اور اگلے دو چار دن میں واضح تبدیلی کی ہوا فل سپیڈ سے چلے گی اور یقینی طور پر پرانے سارے برج الٹ جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے مذہبی سیاست کو پہلی مرتبہ بری طرح مسترد کیا اور یہ ایک اور اہم پیش رفت ہے۔ اس حلقے کی اہم مذہبی عمائدین نے بھی نوجوان رضا الحق مدنی کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ کولٹیز کو علاقے کی تعمیر کے لئے اہم طاقت قرار دیا۔
اگلے کچھ دن اہم ہیں اسکے بعد علاقائی سیاست میں نوجوانوں کا راج قائم ہونے کا ڈنکا بجنے والا یے۔
کورو غواڑی کے ہوم سٹیشن کی سات ہزار ووٹ بینک کے ساتھ اس علاقے کی پہلی مرتبہ نمائندگی نے تمام سٹیک ہولڈرز کو پر جوش بنایا ہوا ہے، علاقے کے اندر یقینی تبدیلی کے خواہاں قوتیں اس صورتحال کو تسلی بخش قرار دے رہے ہیں۔
تحریر و تجزیہ جاوید سالک
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟