بابا جان اور ان ساتھی سیاسی اسیروں کی رہائی تحریک میں جدت آگئی، ہنزہ میں دھرنے کے ساتھ شٹر ڈاون ہڑتال.

0 0

ہنزہ (ٹی این این نامہ نگار خصوصی) ضلع ہنزہ میں سیاسی اسیران دھرنا میں تیزی آنے کے ساتھ دوسری شٹر ڈاون ہڑتال بھی شروع ہوگیا. تفصیلات کے مطابق بابا جان اور ان 14 ساتھی اسیران کی رہائی کیلئے 24 گھنٹے کی دھرنے کا آج تیسرا دن شروع ہوگیا ہے اور گلگت بلتستان بھر سے مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے ممبران جوق درجق ہنزہ پہنچ رہا ہے جبکہ بلتستان ریجن میں دھرنے دینے والوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل سکردو میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے. دھرنے کے تیسرے روز ضلع بھر میں شٹرڈاؤن ہرتال شروع کرکے تمام مارکیٹیں بند کردی گئی یے جبکہ عوام کی سہولت کیلئے کچھ علاقوں میں میڈیکل اسٹور کھلے ہیں.
بابا جان کیس کا پس منظر
بابا جان اور انکے ساتھیوں نے جنوری 2010ء میں لینڈ سلائڈنگ کے باعث ہنزا دریا کا عطا آباد کے قریب راستہ رکنے پر بننے والی نئی جھیل سے متاثرہ افرادکے لئے ایک مہم چلائی تھی۔ اس سے قبل جھیل بننے پر انہوں نے حکومت کو فوری اقدامات کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں پریس کانفرنسیں کر کے عطا آباد جھیل کو ایک قومی مسئلہ بنا دیا تھا۔
گیارہ اگست 2011ء کو علی آباد میں پولیس نے فائرنگ کر کے شیر اللہ بیگ اور انکے بیٹے شیر افضل کو ہلاک کر دیا۔یہ دونوں عطا آباد جھیل کے متاثرین کو معاوضہ دلانے کے مسئلے پر ہونے والے ایک مظاہرے میں حصہ لے رہے تھے۔ اس واقعہ کے خلاف شدیداحتجاج ہوا۔ بابا جان اس تحریک کے رہنما تھے۔ مطالبہ تھا کہ متعلقہ ڈی ایس پی بابر علی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ چار دنوں کے مسلسل احتجاج کے بعد انتظامیہ اس پولیس افسر کے خلاف ایک ایف ائی آر سامنے لے کر آئی تو احتجاج ختم ہو گیا۔ یہ ایف آئی آر بعد میں جعلی نکلی مگر پھرباباجان اور افتخار کربلائی سمیت سو کے قریب افراد کے خلاف انسداد دہشتگردی کی دفعات سمیت مختلف مقدمات درج کر لیے گئے۔
بابا جان نے دسمبر 2011ء میں کچھ دیرانڈر گراؤنڈ رہنے کے بعد گرفتاری پیش کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ جیل میں ان پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ اسی دوران انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی۔ ستمبر 2012ء میں انہیں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔
ان کی رہائی کے لئے دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے۔ پاکستان میں بھی زبردست مظاہرے کیے گئے۔ دو سال بعد ضمانت کی منسوخی کے بعد وہ ستمبر 2014ء میں دوبارہ جیل میں ڈال دئیے گئے اور اب تک وہ جیل میں ہیں۔
گرفتاری سے قبل وہ ستمبر 2014ء میں اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی (اے ڈبلیو پی) کی پہلی کانگریس میں شرکت کے لئے پہنچے ہی تھے کہ انکی گرفتاری کے احکامات جاری ہو گئے۔ کانگریس میں شرکت کرنے کی بجائے وہ واپس گلگت بلتستان گئے اور اپنی گرفتاری پیش کر دی۔
جب 15 جون 2015ء کو گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات ہوئے تو بابا جان عوامی ورکرزپارٹی کے امیدوار کے طور پر جیل سے انتخاب لڑ ے۔ اس نشست پرمسلم لیگ نواز کے میرغضنفر علی 8062 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ بابا جان 4597 ووٹ لے کے دوسرے نمبر پر رہے۔ ان کی حمایت میں جو ریلیاں نکلیں ان میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی تیسرے اور تحریک انصاف چوتھے نمبر پر رہے۔ بابا جان کے کاغزات نامزدگی اس لئے مان لیے گئے کہ وہ ایک انڈر ٹرائل قیدی تھے۔
دریں اثنا بابا جان کی عمر قید والے مقدمہ میں گلگت بلتستان ہائی کورٹ نے سزا ختم کر دی اور اس مقدمہ میں انہیں باعزت بری کرنے کا حکم جاری کیا لیکن دوسرے مقدمات میں انہیں ابھی قانونی جدوجہد کرنی تھی اس لئے وہ رہا نہ ہو سکے۔
پھر یہ ہوا کہ جیتنے والے میر غضنفر جو والی ہنزا بھی ہیں، کو 20 نومبر 2015ء کو انتخابات کے پانچ ماہ بعد گلگت بلتستان کا گورنر بنا دیا گیا اور انکی نشست خالی ہوگئی۔ جنوری 2016ء میں اس نشست پر ضمنی انتخابات کا اعلان کر دیا گیا۔ بابا جان نے دوبارہ جیل سے انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا۔ انکے کاغذات نامزدگی پر اعتراض کیا گیا جسے ابتدائی طور پر منظور کر لیا گیا مگر اپیل پر ان کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے گئے۔
اس تاریخ کو انتخاب زیادہ سردی اور برف باری کے بہانے ملتوی کیا گیا۔ اصل وجہ بابا جان کی اس دوران غیر معمولی مقبولیت تھی۔
دوبارہ انتخابات 25 مئی کو کرانے کا اعلان کیا گیا۔ بابا جان اس دوران ایک انقلابی ہیرو بن کر ابھرے۔انکی حمایت میں تاریخ کے سب سے بڑے جلوس نکلے۔ لیکن انتخاب سے تین روز قبل انتخاب کو ملتوی کر دیا گیا۔
اب حکمرانوں کے لئے انتخاب سے بچنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ بابا جان کو انتخاب لڑنے کے لئے نااہل قرار دلوادیا جائے چنانچہ ہائی کورٹ کی جانب سے بابا جان کو بری کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ جلدی جلدی اس مقدمے کو سنا گیا۔ بابا جان، افتخار کربلائی اور 12 دیگر کارکنوں کو دی گئی عمر قید کی سزا بحال کر دی گئی۔
پھر پانچ ستمبر 2016ء کو انتخاب کرایا گیا اور گورنر میر غضنفر کے بیٹے سلیم غضنفر کو اس سیٹ سے جتوایا گیا۔ نا اہل قرار پانے کی وجہ سے بابا جان انتخاب میں حصہ نہ لے سکے تھے۔ سلیم غضنفر صرف 4679 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے انتخابی ڈھونگ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ میر غظنفر کی بیوی بھی پارلیمنٹ کی رکن ہے اور بیٹا بھی۔
اس سے قبل سولہ اگست 2016ء کو عاصمہ جہانگیر مرحومہ نے گلگت بلتستان کے تین روزہ دورے کے دوران یہاں کے عدالتی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہوں نے بابا جان سے جیل میں ملاقات بھی کی۔
مئی 2017ء کو بابا جان کی رہائی کے لئے ایک عالمی پٹیشن کا آغاز کیاگیا۔ اس پر کئی ممالک کے اراکین پارلیمنٹ اور عالمی شہرت یافتہ ریڈیکل شخصیات نے دستخط کر کے بابا جان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بابا جان بلا شک و شبہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ عالمی شہرت پانے والا سیاسی قیدی بن گیا۔
پچیس مئی 2017ء کو بابا جان کی سزا کے خلاف ریویو پٹیشن کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اسے کچھ دلائل کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔
سولہ اگست 2017ء کو دوبارہ اس اپیل کی سماعت ہوئی جسے کچھ دلائل سننے کے بعد مزید سماعت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ عطا آباد جھیل کے واقعہ پر احتجاج کے دوران باپ بیٹے کی پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد بننے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ پبلک کی جائے۔ اس پولیس آفیسر کو گرفتار کیا جائے جس نے دو افراد کو سر عام قتل کیا۔ بابا جان اور انکے تمام ساتھیوں کے خلاف مقدمات ختم کرکے بلامشروط رہا کریں

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website