ہنزہ (خصوصی رپورٹ) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے ہنزہ میں اسیرانِ ہنزہ کی رہائی کے لئے جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک اسیرانِ ہنزہ رہا نہیں ہوئے تو گھڑی باغ میں دھرنا دینگے۔اسیرانِ ہنزہ کے ساتھ جو ظلم و ناانصافی ہوئی ہے اسکا ازالہ کرنا بہت ضروری ہے۔ چھوٹے سے معاملے میں اتنی بڑی سزا عدالتی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔اسیرانِ ہنزہ کے لئے تمام دروازے کھٹکھٹائے یہاں تک کہ مذاکرات کے ذریعے رہائی کی بھی کوشش کی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔گلگت بلتستان اس وقت تاریخ کے انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے اور دشمن ممالک گلگت بلتستان کی حیثیت سے متعلق سازشیں کر رہے ہیں ایسے میں اگر ان اسیرانِ کو رہا نہ کیا گیا تو ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حکومتیں مظلوموں کی آواز سن کر انکی داد رسی کرنے کے لئے ہوتی ہیں مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ اسیرانِ ہنزہ پر ظلم کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آواز اٹھائی یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی درج کرایا گیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔امکان ہے کہ اگلے تین دنوں میں بابا جان کے دو ساتھی رہا ہو رہے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔ اگر اسکے بعد بھی کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو شدید رد عمل دینگے۔پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاینگے یہ انکا انسانی اور جمہوری حق ہے حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر ایسی سزائیں ہونگی تو ان کے نتائج خطرناک ہونگے۔ اسیرانِ ہنزہ کے معاملے کو ہر فورم پر اٹھانے کے بعد آج دھرنے کی طرف گئے ہیں یہ صرف ہنزہ کا مسئلہ نہیں گلگت بلتستان کے 15 لاکھ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ حکومتیں اور ادارے اگر اب بھی خاموش رہیں گے تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا اور اس وقت حکومت سمیت اداروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس سے قبل انکی رہائی کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
اسیرن ہنزہ کی رہائی کیلئے جاری دھرنے سے امجد ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں اداروں کو بڑا پیغام جاری کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا