سکردو حلقہ تین میں زبردست تاکڑا، اہم انکشافات ،عوامی خدشات،زمینی حقائق پر مبنی (ٹی این این) ادارتی سروے رپورٹ ۔

0 0

سکردو( ٹی این این ادارتی سروے رپورٹ ) گلگت بلتستان کے دیگر حلقوں کی طرح سکردو حلقہ تین میں سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے اور حاجی فدامحمد ناشاد کو پارٹی میں شمولیت سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ ملنے پر حلقے کے عوام کیا سوچتے ہیں؟ مکمل سروے روپورٹ میں پڑھیں۔
گزشتہ الیکشن کی مختصر رپورٹ:
دو ہزار پندرہ کے الیکشن میں گلتری،شلہ،کتی شو،مہدی آباد،پندہ،غاسنگ،منٹھوکھا،منٹھو کے تمام پولینگ اسٹیشنز پر کاسٹ ہونے والے ووٹوں کی ریکارڈ کے مطابق ٹوٹل12468 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں مسلم لیگ ن کے اُمیدوار فدا محمد ناشاد 6201 جبکہ ایم ڈبیلو ایم کے اُمیدوار وزیر محمد سلیم5730 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔جبکہ حسین آباد سے لیکر سیرمک تک پولینگ اسٹیشنز میں 4322 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں فدا محمد ناشاد 2997 جبکہ وزیر محمد سلیم 1325 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس بار سرکاری اعداد شمار کے مطابق حلقے میں رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد 25562 ہیں جس میں حسین آباد 2652،گول2470،سرمیک 2176،گلتری کے دونوں یونین کونسل کو ملاکر5617 یونین کونسل کتی شو3259،مہدی آباد 3259 جبکہ غاسنگ 1075 منٹھوکھا507 اور منٹھو نالہ258 ووٹر پر مشتمل ہیں۔
گلتری:
ہماری ٹیم نے جی بی ایل اے 9 سکردو 3 کے مختلف علاقوں میں سروئے کیا تو اس بار ووٹر کے ترجیحات بلکل مختلف نظر آتا ہے جسکی بنیادی وجہ ووٹ سے ذیادہ ٹکٹ کو اہمیت دیکر ہر بار پارٹی بدلنا اور حلقے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کسی قسم کے میگا پراجیکٹ پر کام نہ ہونا بتایا جاتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ گلتری فدا محمد ناشاد کا اہم ووٹ بنک ہے لیکن سکردو میں مقیم گلتری سے تعلق رکھنے والے سیاسی طور پر متحرک کچھ اہم شخصیات سے جب ہمارے نمائندے نے رائے لی تو وہ ناشاد سے کافی ناراض نظر آئے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ ہر بار ہم ووٹ کاسٹ کیلئے خصوصی طور پر گلتری جاتے تھے لیکن اس بار ہم سکردو میں ہی ووٹ کاسٹ کریں گے کیونکہ فدا ناشاد نے گلتری کے عوام کو ایک طرح سے اپنا زرخرید غلام سمجھ رکھا ہے جو چند ٹھیکداروں کے اشاروں پر عوام سے حقیقی معنوں میں حق رائے دہی چھین کر ناشاد کو ووٹ دینے پر مجبور کرکے سرکاری ٹھیکے اور نوکریاں لیتے رہے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا اس گروپ کا تعداد قلیل ہے اور اب گلتری کے عوام باشعور ہوگیا ہے جو ناشاد کے غلام نہیں کہعوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر ہر بار پارٹی تبدیل کرکے عوام کوگڑیا کی طرح فقط ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے استعمال کریں۔ اُنہوں واضح انداز میں کہااس بار گلتری کے عوام کی اکثریت وزیر محمد سلیم کو ووٹ دے گا کیونکہ ہمارے عوام بھی اپنی اصل حیثیت اور ووٹ کی اہمیت کو دیکھنا چاہتے ہیں اور سکردو میں اس حوالے باقاعدہ طور پر کمپئن چلا رہے ہیں ۔ یوں اس بارگلتری سے فدا محمد ناشاد کو تحریک انصاف کا ٹکٹ پارٹی ملنا اب تک کی صورت حال میں مشکل نظر آتا ہے۔
گول:
گول میں ہمارے نمائندے نے کچھ سیاسی طور پر متحرک شخصیات سے بات چیت کی تو یہاں بھی معاملہ مختلف نظر آیا۔ کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اُمیدوار وزیر وقار کا تعلق گول سے ہے اور وہ اہم شخصیت کے چشم چراغ ہیں جن کو معاشرے میں لوگ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گول کی سیاست میں متحرک افراد کے مطابق ہماری اولین ترجیح وزیر وقار کی جیت ہے کیونکہ پہلی بار گول سے کوئی شخص الیکشن میں اُمیدوار کے طور پرسامنے آیا ہے۔ لہذا ہماری کوشش ہوگی کہ وزیر وقار کیلئے دوسرے علاقوں میں بھی الیکشن کمپئن چلاوں یا سیاسی اتحاد کیلئے کوشش کریں۔یعنی گول اور نر میں اس بار ناشاد اور وزیر سلیم کیلئے مشکلات کا سامنا ہے۔ گول بازار میں جب نمائندےنے لوگوں سے رائے لی تو عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ ناشاد نے اپنے آپ کو فرعون سمجھ لیا ہے جس کے نزدیک ووٹر کی کوئی حیثیت نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار پارٹی ٹکٹ کو اُن کی جیت سمجھتے ہیں۔اُنکا کہنا تھا کہ اب گول بدل گیا ہے اور ناشاد کے پچھلے چار ادوار میں گول اور گول نالے کیلئے کوئی قابل قدر خدمات نہیں لہذا اس بار اولین ترحیج وزیر وقار ہوگی۔
سیرمیک،شلہ:
سرمیک سے حاصل کردہ معلومات بھی کچھ اسطرح کا ہے ۔ سرمیک کا شکار حلقہ تین کے تعلیم یافتہ اورباشعور لوگوں میں ہوتے ہیں ۔لیکن اس بار سرمیک کا میدان بھی فدا محمد ناشاد کیلئے فیورٹ نظر نہیں آرہا جس کی بنیادی وجہ حاصل کردہ معلومات کے مطابق 2015 کے الیکشن میں اُنہوں نے فدا ناشاد کے ساتھ علاقے کی تعمیر اور ترقی کیلئے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے 20 فیصد شقوں پر بھی آج تک عملدرآمد نہیں ہوئے اور سرمیک کے عوام بھی اس بات سے خفا ہیں کہ وہ ووٹ لینے کیلئے عوام کے پاس آتے ہیں اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے آج تک عوام سے کسی قسم کا کوئی مشورہ نہیںلیا ۔سرمیک والے جہاں معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے سے خفا نظر آتا ہے وہیں مسلسل سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے عوام سے کسی قسم کی مشاورت نہ کرنے سے بھی ناراض ہیں یہی وجہ ہے کہ وزیر محمد سلیم آذاد اُمیدوار اس وقت خوب فائدہ اُٹھارہا ہے اور اب تک سرمیک میں عوامی سطح پر وزیر سلیم کو کافی پذیرائی حاصل ہیں اطلاعات کے مطابق سرمیک کے چاروں مکاتب فکر کے علماء نے وزیر سلیم کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔لیکن الیکشن کیلئے چونکہ ابھی وقت ہے اور راتوں رات عوامی وفاداریاں تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی حلقہ تین مشہور ہیں لہذا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ کچھ اسطرح کی صورتحال شلہ کا بھی اورناشاد نے خفاء عوام میں وزیر وقار اور وزیر محمد سلیم کیلئے ہمدردیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اطلاعات کے مطابق عمائدین شلہ نے سکردو میں وزیر سلیم سے اہم ملاقات بھی کی ہے۔
یونین کونسل کتی شو:
سروے کے مطابق یونین کونسل کتی شو کی صورتحال حال بھی کچھ اسطرح کا ہے۔ کتی شو میں جہاں مہدی آباد مخالف بیانئے کیبنیاد پر ہمیشہ فدا ناشاد فائدہ اُٹھاتے رہے ہیں لیکن اس بار کتی شو سے بھی امیدوار کا میدان میںاُترنا بہت بڑی تبدیلی بتایا جارہا ہے۔یونین کونسل کتی شو کے کچھ ہم سرکردگان سے ہمنمائندے نے رابطہ کیا اُنکا بھی وہی شکوہ تھا کہ ناشاد کو چار بار اسمبلی پہنچایا تو کتی شو کو کیا ملا ؟ کتی شو نالہ آج بھی روڈ،صحت،موبائل انٹرنیٹ اور تعلیم جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور چند افراد سرکاری ٹھیکوں میں کرپشن کرکے ناشاد کے ساتھ وفادری نبھا کر عوام کو آج تک بیوقف بناتے رہے ہیں جو اب اجمل حسین کی شکل میں عوامی ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے اور ناشاد کو اپنی فرعونیت کا شائد اس بار اندازہ ہوجائے گا۔ سروے کے مطابق کتی شو کے عوام اس بار ووٹ کی کاسٹ کیلئے سنجیدہ نظر آتا ہے اور مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح اجمل حسین اور وزیر سلیم کے درمیان کوئی سیاسی اتحاد پیدا ہوجائے اگر ایسا ہوا تو کتی شو کی تاریخ میں پہلی بار عوامی انقلاب کے طور پر سیاست کا کایا پلٹ سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی کا اُمیداور بھی کتی شو میں کچھ ووٹ لینے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔یہ ایک سروے ہے حتمی فیصلہ الیکشن کے دن عوام نے کرنا ہے۔
غاسنگ اور منٹھوکھا اور منٹھونالہ:
غاسنگ اور منٹھوکھا اور منٹھونالہ میں بھی صورتحال ماضی کی نسبت قدرے مختلف نظر آتا ہے ۔ عوام کو اعتماد میں لئے بغیر ناشاد کی مسلسل سیاسی قلابازیوںنے عوام سے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ اس علاقے میںبھی وہی سوال دہرایا جارہا ہے ہم نے پچھلے چار الیکشن میں ناشاد کی خاطر اپنوں سے رشتے ناطے توڑ دئے علاقے میں ہمیشہ آپس کی بے اعتمادی کا سماں رہے لیکن علاقے کو کیا ملا کچھ بھی نہیں۔ چار ادوار میں فدا محمد ناشاد نے عوامی فلاح بہود کیلئے کو ئی ایک بھی میگا پراجیکٹ نہیں لایا جس سے اس علاقے کے غریب عوام کو براہ راست فائدہ ہو۔البتہ اپنے منظور نظر آفراد کو معمولی نوکریاں اور سرکاری ٹھیکے ضرور تقیسم کرتے رہے ہیں اور وہی چند لوگ آج ایک بار پھر معاشرے میں ناشاد کو فرشتہ بنانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے ۔غاسنگ سے بھی چونکہ اس بار اُمیدوار میدان میں ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اُنکا وزیر سلیم کے ساتھ سیاسی اتحاد بن سکتا ہے جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہوگی اور غاسنگ میں ذاتی مفادات کیلئے عوام کو استعمال کرکے نوکریاں اور ٹھیکے لیکر قومی حقوق پر سودے بازی کرنے والوں کیلئے اس بار پریشانی کا سامنا پڑھ سکتا ہے۔ عوام حلقوں نے وزیر سلیم سے ملاقات میں اس بات کا شکوہ کیا ہے کہ جہاں ہم ناشاد کی فرعونیت سے متنفر ہیں وہیں مہدی آباد والوں کی جانب سے ماضی میں ہمارے ساتھ کچھ اچھا نہیں کیا ہے ۔لہذا اس بار سوچ کو بدلنا ہوگا۔ وزیر سلیم نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ اس بار جو بھی ہوگا عوام کے سامنے عوام کی مرضی سے ہوگا اور ہم بند کمروں میں فیصلے نہیں کریں گے۔ اطلاعات کے مطابق غاسنگ سے جو مطالبہ آیا ہے اُس میں غاسنگ نالہ روڈ کی مکمل بحالی اور نالے میں بجلی کی فراہمی کو یقینیبنانا ہے جبکہ آخونپہ چونکہ دہائیوں سے مسلسل دریائے سندھ کی کٹائی کے زد میں ہیں اس گاوں کی بحالی اور نئی آباد ی کیلئے وسائل کی فراہمی اولین شرط رکھا ہے۔ منٹھوکھا اورمنٹھو میں بھی خواص کے علاوہ عوام آدمی اس بار تبدیلی دیکھ رہا ہے اور ناشاد کی جانب سے مسلسل خواص کو نوازنے سے تنگ عوام متبادل قیادت کی طرف دیکھ رہا ہے ۔کیونکہ ادھر میں اگر تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو یہی کچھ نظر آتا ہے کہ ناشاد عوامی مفاد میں کوئی بڑا کام نہیں کیا جس کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ سکے۔ لیکن یہاں بھی صورت حال عجیب ہے اور راتوں رات وفاداریاں تبدیل کرنے کے حوالے تاریخ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابھی تک قومی مفاد میں کو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ سامنے نہیں آیا ہے۔ اب تک کی عوامی سروے میں پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے گول کے علاوہ دیگر علاقوں میں خاص پذیرائی حاصل نہیں ہے۔

نوٹ: اس سروے کو ادارہ (ٹی این این) نے خصوصی طور پر ترتیب دی ہے جس کا مقصد کسی سیاسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ صحافتی اصولوں کو مدظر رکھتے ہوئے عوامی رائے پر مبنی رپورٹ عوام کے سامنے لانا ہے ۔ اس سروے کی تمام آڈیو ریکارڈنگ ادارے کے پاس محفوظ ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website