گلگت( تحریر نیوز)گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی ایسا پیچیدہ مسلہ ہے جس پر ہر آنے والی حکومت سیاست کرتے ہیں تاکہ عوام پر احسان جتایا جاسکے،یہاں جب سے مسلم لیگ نون کی حکومت آئی ہے عوام کو سبسڈی کے نام پر ڈرایا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اپنے ایک بیان میں غریب عوام کو مشورہ دیتے ہوا کہا ہے کہ ہمیں محنت کرنا ہوگی گندم کیلئے آسمان سر پر اُٹھانے کی ضرورت نہیں۔ وزیر اعلیٰ کایہ بیان ویسے تو سیاسی ہے لیکن اس بیان نے کئی سوالات جنم دیئے اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہیں۔ لہذا یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کیلئے سبسڈی کس وجہ سے دیئے جاتے ہیں؟ کیا یہاں کے عوام میں محنت کرنے کی سکت نہیں ہے؟ یا کچھ اور وجوہات کی بنیاد پر اس خطے کو رعایتی نرخ پر گندم سپلائی کیا جاتا ہے۔ تقسیم پاکستان سے پہلے گلگت بلتستان سے پاکستان، کشمیر ،ہندوستان،چین،تاجکستان کیلئے تجارت ہوا کرتے تھے یہاں کے عوام بڑے خوشحال تھے لہذا اس بات میں صداقت نہیں کہ گلگت بلتستان میں غربت کی وجہ سے سبسڈی دیا جارہا ہے۔ بلکہ تقسیم برصغیر کے بعد جس طرح سے ریاست جموں کشمیر ٹوٹ کر بکھر گیا اور تمام تجارتی راستوں میں خونی لکیریں کھنچی گئی تو اس خطے کی قسمت میں متنازعہ کا نام آگیا اور اس متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی13اگست 1948کی قراردادکے مطابق آزاد کشمیر،مقبوضہ کشمیر اورگلگت بلتستان کوخوراک کی ترسیل کے سلسلے میں سبسڈی دینے کی منظوری ہوئی۔جس کے تحت وفاق ان دشوارگذارعلاقوں میں ترسیل پر آنے والے اخراجات ادا کرنے کا پابند ہے۔ اس حکم نامے پر عمل درآمد پہلی بار1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان میں صرف گندم سبسڈی کی شکل میں کیا جبکہ مقبوضہ کشمیر لداخ کے عوام کوآج بھی کئی غذائی اشیاء جن میں زرعی مشینری بھی شامل ہیں پر سبسڈی حاصل ہیں۔ آج گلگت بلتستان قدرتی اور زرعی وسائل سے مالا ہونے کے باوجود سرحدوں کے درمیان کھنچی ہوئی خونی لیکروں نے گندم سبسڈی کو ایک ضرورت بنایا ہوا ہے جس سے حکمران فائدہ اُٹھا کر عوام کو اپنے بنیادی حقوق سے دور رکھنے کیلئے ہر بار اس ایشو کے سامنے لاکر دیگر اہم ایشوز سے توجہ ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا