غذر( پ،ر) گلگت بلتستان میں سیاسی اور مذہبی جلسوں میں اسکول کے بچوں کو استعمال کرنا معمول کی بات ہے۔ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے یاسین جلسے کو بھی کامیاب بنانے کیلئے غذر انتظامیہ نے سرکاری اسکولوں کے بچوں اور سرکاری ملازمین کا سہارا لیا جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی کے یاسین جلسے میں سب سکول کے بچے وردیوں میں لائے گئے اور سرکاری ملازمین کے ساتھ خزانے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یاسین کو سب ڈویژن بنانے کا اعلان کیا حلانکہ یہ اعلان پی پی کے دور میں ہوا تھا جس پر عملدرآمد اب ہوئی ہے۔
اس حوالے سے رود عمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر سپریم اپلیٹ کورٹ بار اور گلگت بلتتسان کے سنئیر وکیل احسان علی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ریاست بلور کے دارالخلافہ اور بیرونی حملہ آوروں کو بار بار شکست فاش دینے والے راجہ گوہرآمان کے صدرمقام خطہ یاسین کی تاریخی حیثیت کو گھٹا کر اسے سب ڈویژن کا درجہ دینا یہاں کے عوام کے ساتھ ایک بڑا مذاق ہے یاسین کوکم از کم ایک ضلع کا درجہ دیا جانا چاہئے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا