چلاس (پ۔ر) تعلیم حاصل کرنے کا جذبہ ہے اور چاہتا ہوں کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (دیامر کیمپس) میں داخلہ لوں لیکن داخلہ کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہوں۔ تعلیم حاصل کرنے میں غربت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان کا ضلع دیامر کا نواحی علاقہ تھک بابوسر سے تعلق رکھنے والے زیداللہ نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہ میں 13 افراد کا واحد کفیل ہوں۔ محنت مزدوری کے ذریعے گھریلو اخراجات پورے کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ غربت کی وجہ سے تعلیمی اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہوں۔ اب میں ایم۔اے ایجوکیشن کرنا چاہتا ہوں۔ اس خواہش کے پیش نظر KIU دیامر کیمپس سے رجوع کیا تو انہوں نے داخلہ کے لئے 36950 روپے جمع کروانے کا کہا جسے میں ادا نہیں کرسکا۔ دیامر کا نواحی علاقہ تھک بابوسر سے تعلق رکھنے والے زیداللہ نے مذید کہا کہ میں ایم۔اے ایجوکیشن مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ ابتدائی تعلیم اپنا آبائی علاقہ سے حاصل کی جبکہ میٹرک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول چلاس سے مکمل کی ہے۔ میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد گریجویشن بھی ڈگری کالج چلاس مکمل کرلیا ہے لیکن اب ایم۔اے کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں صرف داخلہ کی فیس ادا کرنے کی کوشش تو کرسکتا ہوں اس کے بعد تمام سمسٹرز کی فیس ادا نہیں کرسکتا۔ انہوں نے صوبائی حکومت گلگت بلتستان ، فورس کمانڈر گلگت بلتستان سے اپیل کی ہے کہ وہ انکی تعلیمی میدان میں پیش آنے والی معاشی رکاوٹ دور کرنے میں کردار ادا کرے۔ اس حوالے سے انہوں نے مخیر حضرات سے بھی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے سابق فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے KIU دیامر کیمپس میں غریب طلباء کو رعایت اور فیس معاشی کے لئے خصوصی گرانٹ بھی دیا تھا۔
رابطہ زیداللہ: 03408865100
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا