گانچھے(ٹی این این نامہ نگار)گلگت بلتستان ضلع گانچھے کے سب ڈویژن چھوربٹ تھونگموس پل کے نزدیک سے پیر کی روز علی الصبح دریا شیوک سے ایک خاتون کی لاش بر آمد ہوئی۔مقامی ذرائع کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ لاش خیرالنساء نامی خاتون کی ہے جسکا تعلق ہندوستان کے زیر انتظام خطہ لداخ ضلع کے نواحی علاقہ بیوقدنگ سے ہے ۔ تفصیلات کے مطابق تین بچوں کی ماں 30 سالہ خیر النساء زوجہ غلام عباس نامی یہ خاتون 24 اگست سے لاپتہ تھی اُور اُن کی گمشدگی کے حوالے سے ضلع لہہ لداخ سے اُن رشتہ داروں نےبلتستان میں موجود اپنے عزیزوں کی اطلاع کردی تھی۔
یوں گزشتہ روز اس خاتون کی لاش چھوربٹ تھوقموس کے مقام پر دریائے شیوک سے برآمد ہوئی اور اہل علاقہ نے میت کو دریا سے نکال کر نماز جنازہ پڑھنے کے بعد میت لواحقین کے حوالہ کرنے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر چھوربٹ کے حوالہکردیا اور اسسٹنٹ کمشنر نے لاش کو ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دی ہے جہاں سے ایم ایس ڈاکٹر ابراہیم روزی اور اسسٹنٹ ڈی ایچ او ڈاکٹر اعجاز نے سکردو روانہ کیا اور کہا جارہا ہے کہ میت کو قانونی تقاضے پورے کرکے واہگہ بارڈر کے زریعے لداخ لے جایا جائے گا۔اس حوالے کئی سول سوسائٹی کے رہنماوں، صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کی جارہی ہے کہ میت کو پانچ ہزار کلومیٹر واہگہ بارڈر کے ذریعے لداخ لے جانے کے صرف دو کلومیٹر چھوربٹ فرانو سے انسانی ہمدردی کی بنیاد کو لاش کو ورثا کے حوالے کیا جائے۔
https://twitter.com/anjum7928/status/1303225523276058624?s=19
The body of a woman, identified as Khairunnissa wife of Abbas Ali, R/O Bogdang Leh was recovered from the Shewak River in Chhorbat, Baltistan.
The administration of UT Ladakh is requested to use the proper channel to bring back the body.@lg_ladakh
@ladags
@IgpLadakh https://t.co/oypvL6Expm— Sajjad Kargili | سجاد کرگلی (@SajjadKargili_) September 8, 2020
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا