سکردو(ٹی این این) پاکستان کا سب مقبول اور بیک وقت کئی شہروں سے شائع ہونا والا روزنامہ کے ٹو اخبار کا ادارہ (کےٹو پبلشنگ نیٹ ورک)کے چیف ایڈیٹر راجہ کاشف علی خان مقپون صاحب و دیگر ذمہ داران حاجی سعادت علی مجاہد راجہ شاہ سلطان مقپون اور ایم ڈی گلگت بلتستان سید عباس خراج تحسین کے مستحق ہے انہوں نے لاک ڈاون کے دوران بھی کبھی اپنے کارکنوں کی تنخواہیں بند نہیں کیں اور بروقت تنخواہیں ادا کرکے عظیم مثال قائم کی اور لاک ڈاون کے دوران ملک بھر میں مختلف اداروں خاص طورپر میڈیا ہاوسز سے منسلک ہزاروں افراد تنخواہوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں مگر کےٹو پبلشنگ نیٹ ورک کی انتظامیہ نے اپنے ادارے سے منسلک تین سو کے قریب ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کرکے انسان دوستی اور صحافت دوستی کی شاندار مثال قائم کی حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایسے اشاعتی اداروں اور ڈمی اخبارات میں تمیز کرے کےٹو آخبار کو تنگ کرنے کا مطلب تین سو سے زائد اخباری کارکنوں کی رزق پر شب خون مارنا ہے. امید ہےکہ حکومت بڑے اشاعتی ادارے کو مالی مشکلات سے دو چار کرنے سے باز رہےگی. اور کےٹو پبلشنگ نیٹ ورک کے تینوں اخبارات کے ٹو نقارہ اور گلگت بلتستان کا واحد انگلش اخبار ڈیلی وادی کو میرٹ پر اشتہارات دینا پی ائی ڈی اور گلگت بلتستان انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا زمہ داری ہے گلگت بلتستان کا واحد ادارہ ہے جو اپنے ورکروں کے یکم کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں
کےٹو پبلشنگ نیٹ ورک کے مالکان نے لاک ڈاؤن کے دوران صحافت دوستی کی شاندار مثال قائم کردی اب حکومت کی زمہ داری ہے ڈمی اخبارات کے خلاف ایکشن لینا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا