گلگت( پ،ر) محکمہ تعلیم کا گلگت بلتستان میں تعلیمی انقلاب کے حوالے سے مسلسل اخباری بیانات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جہاں وزیر تعلیم کے حلقے کے عوام بنیادی بہتر تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں وہیں شہر اقتدار میں موجود ڈگری کالج مناور کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس کالج میں زیر تعلیم طلبہ چار دیواری ،پانی ، بہتر کلاس روم ، لیبارٹیرز اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ایک ویران علاقے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
حکومت گلگت بلتستان کو چاہئے کہ تعلیمی انقلاب کے نعروں سے پہلے شہر اقتدار میں موجود کالجوں اور اسکولوں کی حالت زار پر توجہ دیں جو حکمران اپنی ناک کے نیچے موجود تعلیمی اداروں کی بہتر دیکھ بھال نہیں کرسکتے ان سے کس طرح یہ توقع کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی دور دارز علاقے کے بارے میں فکر مند ہوتا ہو۔
ڈگری کالج مناور کے اسٹوڈنٹس سے حکومت سے مطالبہ یا ہے کہ چاردیواری ،پانی کا بندوبست،کلاس رومز اور لیب بنوائیں ورنہ ہم شاہرہ قراقرم بلاک کرکے دھرنہ دینے پر مجبور ہونگے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا