نئے تعنیات ہونے والےڈپٹی کمشنر ضلع کھرمنگ نے بیلچہ اُٹھالیا، مگر عوام کا مطالبہ ہی کچھ اور۔

0 0

کھرمنگ(ٹی این این) ضلع کھرمنگ میں حال ہی میں تعنیات ہونے والے ڈپٹی کمشنر محمد جعفر نے ماتحت ملازمین کے ساتھ ملکر اپنے دفتر کے سامنے سے برف اُٹھانے کی فوٹو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتے ہی عوامی حلقوں کی جانب سے جزوی طور پر تعریف اور تنقید کرنا شروع کردیا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے جہاں ڈی سی کے اس اقدام کو گلگت بلتستان میں جہاں بیورکریسی اپنے آپ کو بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں وہیں مقامی افسران کی جانب سے اس قسم کے اقدام کو سراہا جارہا ہے وہیں گلگت بلتستان کا پسماندہ ترین ضلع کھرمنگ میں ان گنت مسائل کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی کاکردگی پر بھی سوال اُٹھایا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شدید برف باری نے ضلع بھر میں نظام زندگی مفلوج کردیا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ کی کاکردگی صرف فیس بُک اور اخباری بیانات میں نظر آتا ہے۔ کئی نالہ آج بھی حکومتی امداد اور ریسکیو کے منتظر ہیں،رابطہ سڑکیں بند ہیں، لیکن ضلعی انتظامیہ کے پاس وسائل اور مشینری نہ ہونے کی وجہ سے نالہ جات میں بسنے والے آج بھی پھنسا ہوا ہے اور مریضوں کو کاندھوں پر اُٹھا کر ٹرالیوں میں ڈال کر گھنٹوں کا پیدل سفر طے کرکے ہسپتال پونچانے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف سخت سردی اور برف بھاری میں پانی اور بجلی بھی عوام کیلئے ناپید ہوچُکی ہے کئی علاقوں میں محکمہ برقیات کے ملازمین اسپیشل لائنوں کے ذریعے ہیٹر چلاتے ہیں کہیں عوام کو بلب جلانے کیلئے بھی بجلی میسر نہیں۔ واسا کے ملازمین پانی کی بحالی میں ناکام صبح شام سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے اور بہت سے علاقوں میں عوام اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے کیلئے کوشش کرتے نظر آتا ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے بھی مکمل طور پر غافل نظر آتا ہے۔عوامی حلقوں نے نئے تعنیات ہونے والےڈی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع بھر میں ایندھن کیلئے جلانے والے لکٹری فروخت کرنے والوں کی جانب سے نامناسب قیمتوں کی وصولی اور پانی جیسے بنیادی سہولت کی فراہمی میں ناکامی پر ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں اور شدید برف بھاری کے بعد آنے والے مہینوں میں خوفناک سیلاب نے بھی آناہے جس کیلئے ابھی سے تیاریاں شروع کریں جہاں ضرورت ہو عوامی املاک کی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حفاظتی بند باندھنے کیلئے عملی طور پر کوشش کریں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website