استور(ٹی این این)ضلع استور کے عوام شدید برفباری اور شدید زلزلوں کیوجہ انتہائی مشکلات سے دو چار ہیں۔ سخت ترین برفباری کیوجہ سے ضلع استور کے اکثر علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ مکمل طور پرناکام ہوگئی ہے۔ استور ویلی روڈ بڑی ٹریفک کے لئے ابتک نہیں کھولا جاسکا ہے۔ جسکی وجہ سے آشیاء خوردونوش کا بدترین بحران پیدا ہونے کیساتھ ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ استور سے منتخب ہونے والے دونوں ممبران اسمبلی منسٹر فرمان علی اور پارلیمانی سکریٹری ہیلتھ برکت جمیل ضلع استور کو خیر باد کرچکے ہیں بلکہ استوری عوام کے مسائل اور انکے حل کے لئے اقدامات آٹھانے سے بھی بے خبر ملک کے دیگر حصوں میں آپنی نجی و سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔پارلیمانی سکریٹری صحت برکت جمیل کے حلقے کی پوری یونین زلزلے کے بدترین جھٹکوں سے متاثر ہوئی۔ لیکن ابتک برکت جمیل آپنے حلقے کے زلزلہ زدہ علاقے کے لوگوں کے مسائل سے بے خبر اسلام آباد کے موسم کا لطف آٹھا رہے ہیں۔ حلقہ نمبر دو استور کے عوام جو برفباری اور زلزلہ کیوجہ سے کافی متاثر ہوئے ہیں انکی ابتک کوئی شنوائی تک نہیں ہوئی۔ منسٹر بلدیات رانا فرمان علی کا حلقہ جو کہ بالائی استور کا علاقہ ہے۔ وہاں کے عوام تاریخ کے بدترین مشکلات سے دو چار ہیں۔ گندم و دیگر آشیاء خوردنی رابطہ سڑکیں بند ہونے کیوجہ سے علاقہ سے غائب ہیں۔ بیماروں کو استور ڈسٹرکٹ ہسپتال یا گلگت لے جانے کے لئے رسائی نہیں۔ سخت سردی اور راستے بند ہونے کیوجہ سے لوگوں کو بہتر علاج کی سہولیات میسر نہ آنے پر کافی آموات واقع ہوچکی ہیں۔ اس تمام صورت حال سے منسٹر فرمان صاحب بے خبر کراچی میں سرکاری گاڑی لے کر آمدہ الیکشن کی کمپئن کرنے میں زور و شور سے مصروف ہیں۔ ضلع استور کے باسیوں کا کہنا ہے کہ اہلیان علاقہ نہ صرف تاریخ کی بدترین مشکلات سے دو چار ہیں۔ بلکہ استور کی تاریخ میں عوامی مشکلات سے بے خبر دو ممبران اسمبلی سے بھی استوری عوام کا سامنا ہوا ہے۔ استور سے عزت کمانے والے استور میں رہائش رکھنا عیب سمجھتے ہیں۔ آگلے الیکشن میں ایسے نام نہاد ممبران کو عوامی مسائل سے انتہائی بے خبری اختیار کرنے پر منہ کی کھانی پڑے گی۔ جبکہ اس تمام صورتحال میں صوبائی حکومت کا کردار خاموش تماشائی کا رہا ہے۔ اور ضلعی انتظامیہ آپنے ماتحت اداروں اور ملازمین کے ذریعے راستوں سے برف ہٹانے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ لوگ رضاکارانہ طور پر آپنے علاقوں کے روڈ کی بحالی میں مصروف ہیں۔
شدید برفباری اور زلزلوں کی وجہ استور میں نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج، عوامی نمائندے علاقے سے غائب۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا