قسط اول۔گلگت بلتستان کی شروع سے ہی بد قسمتی رہی ھے کہ یہاں خصوصی اہتمام کے ساتھ چور دروازے سے پنجاب سے لائے ہوئے بابوں کے ساتھ ایک جملہ بھی ایکسپورٹ کرکے لایا گیا جسے خالصہ سرکار کہتے ہیں آج تک اس جملے کی تشریح بھی انہی بابوں کی ذمےداری پر رکھا ہوا ھے ان بابوں نے خالصہ سرکار کی تشریح اتنے صفائی سے کردی کہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 72 سالوں سے اس جملے کے حوالے سے دھوکے میں رھے۔خالصہ سرکار کی تشریح میں ہمیں بتایا گیا کہ خالصہ سرکار وھ زمین ھے جو بنجر ھے یا قابل کاشت ھے دونوں صورتوں میں یہ کسی کی ملکیت نہ ہو ۔پورے پاکستان میں گلگت بلتستان وھ واحد خطہ ھے جہاں ایسی زمینوں کو اسٹیٹ لینڈ یا خالصہ سرکار کہا جاتا ھے ۔ریاست یا ریاستی اداروں کو ضرورت پڑنے پر ایسی زمینوں کو بغیر کسی معاوضے کے ہتھیا لیتے ہیں اور اسے مستقل بنیاد پر اپنی ضرورت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بلتستان میں بہت سے ایسے مجبور اور لاچار جگہے ہیں جہاں ریاست یا ریاستی اداروں نے عوام کے لئے گاھ چرائی کے لئے بھی زمین نہیں چھوڑے ہیں۔ہر آنے والی حکومت اور ان کے سرکاری بابو ہر دور میں عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ خالصہ سرکار سے مراد وھ زمین ھے جو سرکار کی ملکیت ھے یعنی یہ سرکاری زمین ھے جس پر صرف سرکار کو حق حاصل ھے۔اس جھوٹی،جعلی اور من گھڑت تعریف کی وجہ سے ہمارے عوام کو اپنے زیر استعمال زمینوں سے بغیر کسی معاوضے کے ہاتھ دھونا پڑتا ھے ۔ اگر ہم اب بھی منظم نہ ہو اور اسی طرح خاموش رہینگے تو ہم اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے رہینگے۔ خالصہ سرکار کو سمجھنے کے لئے اس کا جو تاریخی پس منظر ھے اس کو سمجھنا ضروری ھے خالصہ سرکار بنیادی طورپر ایک حکومت کا نام ھے جس کا گلگت بلتستان میں حکومت ہوا کرتا تھا جس کا ہیڈ کوارٹر لاہور میں ہوتے تھے۔ سکھوں نے 1860 میں گلگت بلتستان پر حملہ کرکے یہاں مستقلا” راجہ کریم خان کی حکومت قائیم کردی اور یہاں پر سکھ گورنر تعینات ہوا سکھ اس حکومت کو خالصہ سرکار کہتے تھے جبکہ انگریز اس حکومت کو پرنسلی اسٹیٹ کہتے تھے۔ یہاں کوئی ڈیموکریسی نہیں ہوتی تھی عوام سے ان کا رائے نہیں پوچھا جاتا تھا جو زمین لوگوں کی ملکیت میں ہوتی تھی اسے لوگوں کی ملکیت سمجھی جاتی تھی اس کے علاوھ جو بھی زمین ہو اسے خالصہ سرکار ڈکلیئر کرکے اسے خالصہ سرکار حکومت کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا جو زمین لوگوں کی ملکیت میں ہوتی تھی اس پر بھی لوگوں سے مسلئہ اور لگان لیا جاتا تھا ۔ غریب دور تھا لوگ مسلئہ اور لگان نہیں دے سکتے تھے ۔لوگ زمینوں کو کاشت تو کرتے تھے لیکن کاغذات میں چھپا کے خالصہ سرکار ڈکلیئر کرتے تھے جس کی وجہ سے شروع سے ہی ملکیتی زمین کم لوگوں کے پاس موجود رھے اور زیادھ تر زمین خالصہ سرکار ہی رھے اور جو خالی زمین تھی اس کا بھی ایک قانون تھا جسے نوتوڑ کا قانون کہلاتا تھا اگر کوئی بندھ خالصہ سرکار کو اپنے قبضے میں لیتا تو اسے اس زمین پر دوبارھ مسلئہ اور لگان دینا پڑتا لیکن غربت کی وجہ سے لوگوں نے کاغذات میں اپنی زیادھ تر زمینیں خالصہ سرکار ہی رہنے دیا جسے خالصہ سرکار حکومت کی ملکیت تصور کیا جاتا تھا ۔ (جاری ھے)
تحریر:احمد چو شگری
مرکزی جنرل سکریٹری انجمن تاجران سکردو۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟