تحریر محمد علی عالم
………………………………….
ڈینگی ایک وائرس ہے یہ بیماری ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جس کے نتیجے میں مریض کے پلیلیٹس میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور مریض میں خون جمنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اگر ڈینگی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو ڈینگی بخار سے انسان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اس کے نیتجے میں خون بہنے، پلیٹلیٹس میں کمی اور خون کے خلیات ضائع ہونے لگتے ہیں یا بلڈ پریشر گر جاتا ہے۔ ڈینگی پاکستان میں پہلی مرتبہ 1994 میں پھیلا۔ سال 2011 سے 2014 کے دوران ملک بھر کے لیبارٹریز میں ڈینگی کے 48 ہزار کیسز کی تصدیق کی گئی۔ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں 27 ہزار اس وبا سے متاثر ہوئے تھے پاکستان کے قومی ادارۂ صحت میں وبائی امراض کے ماہر اور ڈینگی سیل کے سربراہ ڈاکٹر رانا محمد صفدر کے مطابق ملک میں ڈینگی سے اب تک کم از کم 20 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے ایک ریکارڈ کے مطابق رواں سال ملک بھر میں ڈینگی کے 44 ہزار415 کیسز کی تصدیق ہوئی جس میں سب سے زیادہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں12 ہزار 433 کیسز رپورٹ ہوئے۔ صوبہ سندھ میں ڈینگی کے کیسز کی تعداد 10 ہزار 142، پنجاب میں 9 ہزار 260، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 346، بلوچستان میں 3 ہزار 51 ڈینگی کیسز جبکہ آزاد کشمیر میں ایک ہزار 672 کیسز رپورٹ کئے گئے۔ ڈینگی سے ملک بھر میں 65 اموات ہوئے ڈینگی سے سب سے زیادہ سندھ میں 26 اموات ہوئے ، اسلام آباد میں 22، پنجاب میں 14 بلوچستان میں 3 جبکہ آزاد کشمیر میں ڈینگی سے ایک شخص جان بحق ہو گئے۔
ملک بھر میں ڈینگی سے ہر کوئی پریشان ہے تو وہاں ایک ایسا خطہ بھی ہے جہاں ڈینگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے یہ خوش نصیب خطہ ملک کے خوبصورت ترین صوبہ گلگت بلتستان ہے جہاں آج تک ڈینگی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے گلگت بلتستان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اشرف کریمی نے بتایا کہ ڈینگی ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے یہ مچھر سطح سمندر سے ساڑھے چھے ہزار فٹ سے اوپر پر زندہ نہیں رہتا ہے گلگت بلتستان کا موسم ڈینگی مچھر کے لئے فیزبل نہیں ہے وہ ایک خاص ٹمپریچر میں زندہ رہتا ہے گلگت بلتستان خشک ٹھنڈ علاقہ ہے اس لئے آج تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے اس کے باوجود ہر سال محکمہ ہیلتھ گلگت بلتستان میں اس بیماری کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں یہ ایک موسمی بیماری ہے اس لئے ڈینگی مچھر کے افزائش کی موسم شروع ہوتا ہے تو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں آگاہی مہم چلائی جاتی ہے سکولوں میں اور کمیونٹی سطح پر ہیلتھ سیشن کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے زریعے ڈینگی وائرس کے بارے میں بتایا جاتا ہے خصوصاً ڈینگی کے علامات بتاتے ہیں اس کے علاؤہ ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے اور کوئی علامات پائے گئے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں آگاہی واک کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جہاں بینرز اور پلے کارڈز کے زریعے اگاہی شہریوں میں آگاہی دی جاتی ہے ساتھ ہی ورکشاپ اور سیمنار کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہر سال انٹرنیشنل ہیلتھ ڈیز مناتے ہیں تاکہ لوگوں میں مخلتف بیماریوں کے حوالے سے آگاہی دی جا سکے ہیلتھ عملے کو مخلتف ڈینگی سمیت مختلف بیماریوں کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے وہ کمیونٹی میں جا کر لوگوں کو آگاہی دیتے ہیں جس کی ہم خود نگرانی کرتے ہیں اس کے علاوہ صوبائی سطح پر نگرانی کرتے ہیں اور رپورٹ لیتا ہے تاہم ان سیشن، سیمنار، ورکشاپ یا آگاہی واک کی آوٹ پٹ لینے کے لئے کوئی کام نہیں ہوا ہے ہر ماہ ہیلتھ عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں پہلے کی نسبت انکی کارکردگی بہتر ہوئی ہے گلگت بلتستان میں ہیلتھ کارکردگی کو دیکھنے کے لئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن سیل بنایا گیا ہے جس کی نگرانی صوبائی سطح پر ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ پہلے کی نسبت لوگوں میں ہیلتھ کے شعبے میں شعور آیا ہے پہلے کچھ سال پہلے ہیلتھ کیئر ویکسینز پلانے کے لئے انکے گھروں میں جانا پڑتا تھا ابھی لوگ ہیلتھ سنٹرز میں آتے ہیں سال 2019 کے دوران ضلع گانچھے میں دو سو سے زائد ہیلتھ سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کے ضلعی انتظامیہ ہماری براہ راست تعاون کرتے ہیں ایک سوال کے جواب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اشرف کریمی نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں ڈینگی وائرس کے بچاؤ اور آگاہی دینے کے لئے کوئی الگ سرکاری بجٹ مختص نہیں ہے ہم اس کو اپنی ذمہ داری سمجھ ہر ہر ضلع میں کرتے ہیں جب ملکی سطح پر ایشو بنتا ہے تو گلگت بلتستان میں بھی اعلی سطح پر بات چیت ہوتی ہے تاہم آج تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تو ڈینگی وائرس پر گلگت بلتستان میں ایمرجنسی بنیاد پر کام نہیں ہوا ہے تاہم افزائش کے موسم میں تمام اضلاع میں الرٹ جاری کرتے ہیں اس حوالے سے ہم نے گانچھے میں فلاحی کمیٹی کے صدر حاجی یعقوب سے بات کیا تو انہوں نے بتایا کہ محکمہ ہیلتھ ضلع میں ہیلتھ آگاہی سیشن کا انعقاد کرتے ہیں جس سے لوگوں میں صحت کے حوالے سے شعور بیدار ہو رہی ہے ہم نے اس سے لوگوں میں بہت ساری تبدیلی دیکھا ہے ہم خود انکے ہر سیشن میں شریک ہوتے ہیں اور لوگوں کو بھی شرکت کرنے کے لئے بتاتے ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ معاشرے کی خواتین جن کا معاشرے میں اہم کردار ہوتا ہے وہ لوگ جب ہیلتھ سیشن لیتی ہے تو وہ اپنے گھروں میں بچوں کو صاف ستھرا رکھتے ہیں احتیاط کرتے ہیں اس کے علاوہ محلوں میں ایک دوسرے کے ساتھ اسی باتیں شئیر کرتے ہیں جس سے یہ پیغام ایک دوسرے کے ساتھ پھیلتی ہے انہوں نے کہا کہ سیشن کے عمل کو مزید بڑھانا چاہئے تاکہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ شعور بیدار ہو جائے ہم نے بلقیس نامی گھریلو خاتون سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ پہلے ہمیں اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم تھا ہم کھانوں میں صفائی کا خیال نہیں رکھتے تھے جو کہ اب ہمیں پتہ چلا کہ یہ بیماریوں کا جڑ ہے ہیلتھ سیشن میں جانے کے بعد ہمارے اندر بہت ساری تبدیلی آئی ہے ہم یہ پیغام اپنے محلوں میں ساتھیوں کو دیتے ہیں تو وہ بھی بہت خوش ہو جاتی ہے اس کے علاؤہ لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی ہمارے گھروں میں آ کر مخلتف بیماریوں کے حوالے سے آگاہی دیتے ہیں
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟