سکردو( تحریر نیوز) انجمن تاجران سکردو نے گلگت بلتستان پر غیرقانونی ٹیکسز کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں احتجاج کے دوران مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال رہی ریلی کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف نعرے درج تھے پریس کلب سکردو کے سامنے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران کے صدر و اراکین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا انتہائی دور افتادہ پسماندہ علاقہ ہے اور ہمارے علاقے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ خطہ متنازعہ شمار کیا جاتا ہے جس کی رو سے اس علاقہ میں کسی بھی قسم کا ٹیکسز لاگو نہیں ہوسکتا ۔حال ہی میں وزیراعظم پاکستان کے حکم پر کسی بھی قسم کے بنکینگ لین دین پر مجوعی طور پر دس فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے جو کہ سراسر غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے اس کے برعکس پاکستان کے دائرہ حدود کے اندر ہوتے ہوئے بھی مینگورہ سوات کوہستان مالاکنڈ وفاٹا وغیرہ کسی بھی قسم کے ٹیکسٹز سے مستثنٰی ہے ۔ویسے بھی عالمی طاقتوں کی نظریں اس خطہ پر جمی ہوئی ہیں اس طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کر کے بین الاقوامی سازشوں کو دوام بخشی جا رہی ہے جو کہ ملک کے حق کسی بھی صورت بہتر نہیں ہے پہلے ہماری شناخت کو تسلیم کیا جائے بعد میں ٹیکسز نافذ کیا جائے آخر میں شرکاء ریلی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا