سکردو(ٹی این این) سکردو میں بہت سارے سرکاری ملازمین میڈیکل نکال کر علاج معالجے کے بہانے سردی سے بچنے کیلئے راولپنڈی اسلام آباد لاہور کراچی جانے کا انکشاف۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بڑے بڑے لوگوں کے سفارش پر میڈیکل نکال کر گرم علاقوں میں نکلنے کا رواج زور پکڑتا جارہا ہے موسم سرما کے شروع ہوتے ہی یہاں سے بہت سارے لوگ گرم علاقوں کا رخ کرنا شروع کردیتے ہیں بلخصوص سرکاری ملازمین سفارش لڑا کر اپنے بچوں یا والدین کا یا اپنا خود پنڈی لاہور کراچی میڈیکل چیک کرنے کیلئے ریفر نکل رہا ہے اسپتال زرائع کا مزید کہنا ہے کہ سردی کا موسم شروع ہوتے ہی سرکاری ملازمین مختلف ڈاکٹروں کے اوپر اثر و رسوخ استعمال کر کے ریفر کا پروانہ حاصل کرکے گرم علاقوں کی طرف نکلتے ہیں واپسی پر جعلی بل لاکر عیاشیوں کا خرچہ بھی نکال لیتا ہے سرکاری خزانے کو سالانہ کروڑوں نقصان پہنچا رہا ہے تاہم اس سلسلے میں میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ میرٹ پر فیصلہ ممکن ہو ورنہ بعض سرکاری کام چور ملازمین میڈیکل کے بہانے جاتے رہیں گےضلعی انتظامیہ کے سربراہان کو اس معاملہ پر باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے حیلے بہانوں سے سرکاری امور میں خیانت کرنے والے ملازمین کو روکنے ہونگے ورنہ یہ فیشن بن جائے گا سردیوں کے آغاز سے ہی سرکاری اداروں میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے گیارہ بجے آتا ہے ایک دو بجے چھٹی کرکے نکل جاتے ہیں گزشتہ دنوں انتظامیہ نے پی ڈبلیو ڈی آفس میں چھاپہ مارا حاضری چیک کی گئی اس کے باوجود بھی وہی پرانی روش اختیار کیا ہوا ہے تنخواہ آٹھ گھنٹے کی جبکہ ڈیوٹی صرف ڈیڑھ سے دو گھنٹے دے کر رفوچکر ہو جاتے ہیں دفتری کام کے لیے آنے والے سائلین اس سلسلے میں خاصا مشکل میں ہے وقت نکال کر کام کے لئے آتے ہیں ایک تو متعلقہ لوگ نہیں ملتے مل بھی جائیے تو کل پرسوں کہہ کر ٹال دیتے ہیں یوں ایک عام سائل کو معمولی سی کام کیلئے ہفتہ مہینہ لگ جاتا ہے سائلوں کا کہنا ہے کہ اعلی حکام کو چاہیے کہ ان معاملات کے بارے میں بھی نوٹس لیا جائے تاکہ ایک غریب آدمی سرکاری دفاتر میں دھکے نہ کھانا پڑے ۔
ٹیکنکل فراڈ کا نیا انداز،سرکاری ملازمین کا میڈکل کے بہانے سردیوں سے بھاگنے میں تیزی آگئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا