ڈپٹی کمشنر دیامر کی آفسر شاہی عوامی نمائندوں پر بھاری،سیاسی رہنماکیلئے دفتر کا دروازہ بند۔

0 0

چلاس(نامہ نگار خصوصی) ضلع دیامر کے ڈپٹی کمشنر کپٹن ریٹائرڈ ثنااللہ کا دروازہ عوامی نمائندوں کیلئے بند ،عوامی نمائندے سے ہتک آمیز سلوک نے ڈپٹی کمشنر کی آفسر شاہی کا پول کھول دیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جمعہ کے دن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اُمیدوار برائے گلگت بلتستان اسمبلی داریل حلقہ17 دیامر 3 ڈاکر محمدزمان کچھ عوامی مسائل کی نشاندہی اور چیف سیکرٹیری کواپنے حلقے میں ڈولپمنٹ کرپشن کے حوالے سے لکھے گئے درخواست کی معلومات کے غرض سےڈپٹی کمشنر آفس ضلع دیامر پونچے تو ڈپٹی کمشنر نےاُنہیں ٹھیک دو گھنٹے انتظار کروایا۔ طویل انتظار پر اُنہوں نے تین بار پرچی دیکر یاددہانی کروائی اور پیغام بھی دیالیکن اُنہوں اُن سے بروقت ملنا گوارہ نہیں کیا۔ٹھیک دو گھنٹے بعد جب اُنکو ڈپٹی کمشنر نے ملنے کا موقع دیا تو ڈاکٹر زمان نے اُن کے روئے کے خلاف احتجاج کیا تو اُنہوں نے سخت ناراضی کا اظہارکرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر محمد زمان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں جگ مارنے کیلئے نہیں بیٹھا ہوں کہہ کر ماتحت ملازمین اور ڈیوٹی پر موجود پولیس سپاہیوں کو اُنہیں دفتر سے بار دھکا دینے اور آئندہ ڈاکٹر زمان کیلئے دفتر کا دروزہ ہمیشہ کیلئے بند رکھنے کا حکم دیا ۔ اس موقع پرعملے کی جانب سے ڈاکٹر زمان پر ہاتھ اُٹھانے کی بھی کوشش کی گئی لیکن اُنہوں نے کسی قسم کی مزاحمت کے بجائے اس مسلے کو اعلیٰ سطح پر اُٹھانے کیلئے خاموش اُن کے دفتر سے نکل گئے۔ ڈاکٹر زمان سے جب ہمارے نمائندے نے رابطہ کیا تو اُنہوں نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے علاقہ کا عوامی نمائندہ ہوں اور میں عوامی مسائل کی نشاندہی کیلئے اُن کے دفتر شکایت لیکر گیا تو میرے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا تو غریب عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ اُنہوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان،فورس کمانڈر گلگت بلتستان،گورنر گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے موقع پر موجود عوامی حلقوں کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہمارے علاقے کے عوامی نمائندے کے ساتھ سرکاری ملازم کا یہ رویہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی نمائندوں سے ذیادہ سرکاری بیوروکریسی بااختیار ہیں اور علاقے کا ڈپٹی کمشنر خود علاقے کا بادشاہ سمجھتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری افسران گلگت بلتستان میں عوامی مسائل حل کیلئے ایک طرح سے عوام کے نوکر ہوتے ہیں لیکن گلگت بلتستان میں جو بھی آفسر آتا ہے وہ بادشاہ سے نیچے خود کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website