نگر ( اقبال راجوا) چار پرس قبل محکمہ تعمیرات عامہ نگر کے زیر نگرانی تعمیر ہونے والے کروڑوں روپے کے عوامی مفاد کے زیر تکمیل منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں داخل۔ نومبر میں ان تمام منصوبوں کا اافتتاح متوقع ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع نگر میں چار سال قبل خطیر رقوم سے تعمیر شروع ہونے والے منصوبے جن میں،ٹاؤن ایریاء چھلت RCCبرج ،30بیڈ ہسپتال سکندرآباد ،ساس ویلی میں قربان علی روڑ فیز ون کی توسیع ومیٹلنگ اور دس بیڈ ہسپتال اسقرداس نگر شامل ہیں ۔ ان منصوبوں کے علاوہ ساس ویلی میں توانائی کا ایک منصوبے نے تین ماہ قبل اپنی کام کا آغاز کر دیا ہے۔ان منصوبوں سے عوام کو سہولیات وفرمقدار میں اس وقت پہنچ سکتی ہیں جب ہسپتالوں میں پی سی فور کے لحاظ سے ادویات اور ڈاکٹرز فوری طور پر تعینات کر دئے جائیں۔ ضلع نگر میں اداروں میں پی سی فور کے مطابق ملازمین کی بھرتی نہو ہونے اور اداروں میں موجود ملازمین کی کم مہارت یا مقررہ وقت سے کئی گنا زیادہ ڈیوٹی لینے کے سبب عوام کو بہتر سہولیات دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیئے کہ ان منصوبوں کے افتتاح سے قبل ان تمام ملازمیں کو پی سی فور کی منظوری کے حساب سے تعینات کر یں اور ان اداروں میں ماہر ملازمیں کو بھرتی کیا جائے ۔ جدید طرز پر بنے ان ہسپتالوں اور توانئی کے منصوبوں میں جدید مشینری لگ جائے گی لیکن ان اداروں میں بھرتی ہونے والے ملازمین کو اس جدید مشینری کا استعمال نہیں آتا ہو تو عوام کے لئے تعمیر شدہ یہ منصوبہ کبھی بھی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتے ہیں۔ کئی بار مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ مختلف اداروں میں استعمال ہونے والی مشینری کی معمولی یا زبزن زد عام کسی پرزے کے نام یا کام کے بارے میں ملازمین سے دستیاب کیا جاتا ہے تو وہ یا تو بتا نہیں پاتے ہیں یا پھر اپنی طرف سے رکھا ہو ا کوئی نام دیتے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے استعمال ہونے والی خطیر سرمایہ کاری سے بننے والے ان منصوبوں پر اہلیت اور مہارت کے اعتبار سے ملازمین کے استعداد کار میں اضافہ نہیں کیا جائے گا تب تک عوامی مفاد کے لئے ان منصوبوں اپنے مقررہ میعاد کی مقررہ مدت پوری نہیں کر سکتے ہیں اور نتیجے میں حکومت اس مد میں ایک مرتبہ پھر سے کثیر سرمایہ بار بار لگانا پڑ جاتی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا