سکردو(نامہ نگار خصوصی) بلتستان کے چاروں اضلاع کیلئے اکلوتا ہسپتال اس وقت بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ تفصیلات مطابق سکردو ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کیلئے موجود کئی افراد نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس وقت ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال برائے نام ہے یہاں مریض کیلئے کسی قسم کی سہولت موجود نہیں،اُنکا کہنا تھا کہ ہسپتال میں معمولی ٹیسٹ سے لیکر انجیکشن تک باہر سے خریدنا پڑتا ہے اور میڈیکل اسٹور والے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ ایک شخص نے بتایا کہ اُنکے ایک عزیز کیلئے ڈاکٹر نے جو انجکشن لکھ کر دی تھی وہ اس وقت سکردو میں 8 سو سے لیکر 850 تک کا فروخت ہورہا ہے جبکہ اُسی انجیکشن کا میں نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنے کسی عزیز سے پنڈی میں چیک کیا تو پانچ سو کا عام میڈیکل اسٹور پر دستیاب ہیں۔لیکن سکردو میں غریب عوام کی مجبوریوں کا فائدہ اُٹھا کر لوٹنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایک اور مریض کے ساتھ عیادت کیلئے موجود شخص نے بتایا کہ اُن کے عزیز کا پیشاب ٹیسٹ اُنہوں نے پنڈی بیجا ہے اور اُسکا پیسہ بھی ہم سے وصول کیا جارہا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جہاز آنے کی صور ت میں چار دن اور اگر جہاز نہ آیا تو کم از کم ایک ہفتہ مریض کو بغیر کسی تشخص کے وارڈ میں انتظار کرنا پڑے گا۔ یوں بلتستان کے سب سے بڑے ہسپتال میں معمولی نوعیت کا ٹیسٹ بھی پنڈی سے کرانے کا نوبت آنا بلتستان کے عوام نمائندوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ہسپتال میں لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہسپتال میں ذیادہ تر ڈاکٹر مریضوں کو اپنے نجی کلینک کی طرف ریفر کرتے ہیں اور کلینک میں عوام کو علاج کے نام پر لوٹا جاتا ہے۔ سکردو کے پرائیوٹ لیبارٹریوں میں بھی یہی صورت حال ہے ہسپتال میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے نجی لیبارٹری مالکان بھی عوام کو ایک طرح سے آنکھ بند کرکے لوٹ رہا ہے۔ ہم نے اس حوالے سے ہسپتال کے کچھ ذمہ داران سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی دفتر میں موجود نہیں تھے اور کسی نے اس حوالے سے بات کرنے سے معذرت کی۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال سکردو ضرورت کی بنیادی سہولیات سے محروم، مریض پریشان حکومت لاعلم
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا