سکردو(ٹی این این) مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کےخطیب شیخ جواد حافظی نے جمعہ کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیں سمجھ نہیں آہا رہا ہے۔ افغانستان کی وجہ سے ملک میں بدامنی پھیل رہا ہے دہشت گرد وہاں سے ٹریننگ لیکر مسلمانوں کا سر کا تاج پاکستان کی امن وامان خراب کررہا ہے اس کے باوجود بارڈر کھولا ہوا ہے۔ دوسری طرف کرتا پور بارڈر کھول کر روزانہ 5 ہزار افراد بغیر ویزہ کے پاکستان میں داخل ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ بلتستان میں موجود کرگل لداخ کے ہزاروں منقسم خاندان اپنے بچھڑے ہوئے خاندانوں سے ملنے کے لئے بے چین ہے ان کو ملانے کیلئے پاک بھارت کے ظالم حکمرانوں نے بھی اس پر کوئی توجہ نہیں دیا جارہا ہے اور اس اہم ایشو پر نظرانداز کرتے ہوئے کرگل لداخ بارڈر کھولنے کیلئے کبھی بھی کھولنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھایا۔ اُنہوں نے پاکستان کے حکمرانوں سے سوال کیا کہ کرگل لداخ کے ہزاروں منقسم خاندانوں کاآخر قصور کیا ہے کیا یہ لوگ انسان نہیں ہے ؟ اور دونوں ملکوں کے حکمران ہوش کے ناخن لے کسی دن لاوا پھوٹ پڑے گا تو سنبھالنا مشکل ہوگا کرگل سکردو لداخ خپلو روڈ کو کھولا جائے اور منقسم خاندانوں کو ملانے کے ساتھ تجارت اور سیاحت کی فروغ کے کھولا جائے۔یاد رہے لداخ سے منتخب لوک سبھا کے ممبر نمگیل کی اپنے کوششوں سے چند دن پہلے بھارت کے اپنے زیر قبضہ سیاچن گلیشیر کو سیاحوں کیلئے کھولا گیا ہے جبکہ بھارت نے سیاچن میں دس ہزار کے قریب انڈین آرمی تعینات کرکے رکھا ہوا
کرتار پور کوریڈور کھلنے کے بعد سکردو کرگل لداخ کوریڈور بند کیوں؟ مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کے خطیب حکومت پر سخت برہم
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا