سول سوسائٹی بلتستان کا یادگار شہداء پر احتجاجی مظاہرہ،8 نکاتی مطالبہ پیش۔نواز ناجی کے حق میں نعروں کی گونج۔

0 0

سکردو(ٹی این این)سول سوسائٹی بلتستان کے زیر اہتمام یادگار شہداء سکردو پر پاکستان کے نجی چینل 92 کی جانب سے گلگت بلتستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر شدید احتجاج۔ احتجاجی مظاہرے میں عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان،گلگت بلتستان بچاو تحریک اور سول سوسائٹی کے رہنماوںسمیت طلبہ تنظیموں کے رہنماوں نے خطاب کیا۔ مقررین نے جموں کشمیر میں ہندوستان کی جانب سے جاری انسانیت سوز مظالم کےپر اقوام عالم اور حکومت پاکستان کی جانب سے دو ماہ سے زائد کو عرصہ گزر جانے کے بعد ٹھوس اقدام نہ اُٹھانے پر شیدید تشویش کا اظہار کیا اور آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے سرینگر روڈ پر جاری احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی حمایت اور آزاد کشمیر کے عوام سے اظہار ہمدوری کا اظہار کیا۔ مقررین نے گلگت بلتستان میں جاری جبر کے نظام کے نظام کا خاتمہ اور خطے کی بین الاقوامی حیثیت کے مطابق حقوق دینے کے بجائے مُلکی میڈیا پر مسلسل خطے کے سیاسی قیادت کی کردار کشی کو گلگت بلتستان کے خلاف سازش اور گلگت بلتستان کے عوام کو بغاوت پر اُکسانے کا حربہ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان پچھلے بہتر سالوں سے بنیادی سیاسی حقوق سے محروم ہیں لیکن آج تک کسی چینل نے اس پر کوئی پروگرام نہیں کیا،سی پیک جیسے تاریخی پراجیکٹ میں گلگت بلتستان کا حصہ زیرو ہے لیکن کسی نے پروگرام نہیں کیا لیکن جب گلگت بلتستان کی نئی نسل اپنے حقوق کیلئے جب جب اُٹھ کھڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ٹی وی بیٹھ کر خطے کی بغیر کسی نمائندگی الزامات اور من گھرٹ تجزیات پر مشتمل پروگرام کئے جاتے ہیں جوکہ گلگت بلتستان کے خلاف ایک گریٹ کا حصہ ہے ۔
احتجاجی مظاہرے میں عوام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی اور نجی چینل 92کے خلاف ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ جس پر لکھا گیا تھا کہ نواز خان ناجی ہمارا قومی لیڈر ہیں ان کی کردار کشی نامنظور اور قابل مذمت ہے اور پاکستانی میڈیا کو لگام دیاجائے۔مظاہرین کی جانب سے اٹھائے گئے پلے کارڈ پرکنٹرولڈ میڈیا کبھی قابل قبول نہیں اور نامنظور،گلگت بلتستان سے غیر قانونی اور مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیئے بغیر دی جانے والی لیزز نامنظور اور ناقابل قبول ہے اور ایسی غیر قانونی لیزز کو منسوخ کیا جائے،گلگت بلتستان کے تمام سیاسی اسیروں کو رہا کیا جائے اور بلتستان یونیورسٹی کو بچایا جائے کے نعرے اور مطالبات لکھے گئے تھے۔دوسرے ایک پلے کارڈ میں لکھا ہوا تھا کہ گلگت بلتستان میں بااختیار قانون ساز اسمبلی تشکیل دی جائے۔مظاہرین نے نجی چینل 92، اینکر پرسن معید پیزادہ اور نام نہاد تجزیہ نگار کے خلاف شدید نعراہ بازی کی اور چینل 92شدید نعرے بازی کی۔
احتجاجی مظاہرے میں متفقہ طور پر 8 نکاتی قراداد منظور کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ اُن قراداد پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں بصورت دیگر اگلے مرحلے میں احتجاج کا سلسلہ دیگر اضلاع تک بڑھا دیا جائے گا۔
1- گلگت میں معدنیات کی تلاش کیلئے غیر قانونی لیز کا خاتمہ
2-سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی۔
3-گلگت بلتستان بلدیاتی انتخابات کا جلد ازجلد انعقاد
4-گلگت سکردو روڈ کی نقشہ میں تبدیلی کو فوری طور پر روکا جائے۔
5-سکردو روڈ کے تعمیر کیلئے متاثرروندو کے عوام کو معاوضوں کی عدم ادائیگی جلداز جلد کیا جائے۔
6- گلگت بلتستان آئین ساز اسمبلیکی قیامکیلئے اقوام متحدہ کے قرارداد کے مطابق عمل کیا جائے۔
7- بلتستان یونیورسٹی کے مسائل کی طرف حکومتی عدم توجہی اور مسائل کا حل جائے
8- گلگت بلتستان میں شیڈول فورتھ کالے قانون کا فوری طور پر خاتمہ کرکےسیاسی اسیروں رہاکیا جائے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website