سکردو(ٹی این این) گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے باجود یہاں آذاد کشمیر میں نافذ قانون باشدہ سٹیٹ سبجیکٹ رول نہ ہونے کی وجہ سے قدیم اصطلاح میں موجود عوامی چراگاہوں اورزیرکاشت زمینوں کو اٹھارویں صدی میں گلگت لداخ کے حکمران خالصہ سرکار ( سکھوں کی اصطلاح) کوخالصہ سرکار یعنی حکومتی زمین قراردیکر حکومت کی جانب سے بلامعاوضہ تصرف میں لانے کے عمل سے یہاں کے عوام میں گزشتہ کئی سالوں سے شدید اظراب پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے مسلسل احتجاج اور دھرنوں کے بعد حکومت نے عوامی ملکیتی اراضیات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے سٹیٹ سبجیکٹ قانون کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے قانون ساز اسمبلی سے متفقہ قراداد لانے کے بجائے 2017 کے اواخر میں وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ کی سربراہی میں لینڈریفارمز کمیشن کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ممبران اسمبلی اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر شامل تھے۔ اُس وقت کمیشن چیئرمین اورنگزیب ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ لینڈ ریفارمز کمیشن کے ممبران گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا تفصیلی دورہ کرینگے۔ اس حوالے سے تین ڈویژنوں کے کمشنروں سے کہا گیاتھا کہ وہ اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں، علاقے کے نمبرداروں اور عمائدین و سرکردگان کی فہرست مرتب کریں تاکہ کمیشن ہر علاقے میں جاکر ان سے مشاورت کریگا اور ان سے سفارشات بھی لیں گے جوکہ اب مکمل ہوچُکی ہے۔
بدقسمتی سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں جہاں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ممبران نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کیلئے
بل لانے کی کوشش کو غداری قرار دیکر مسترد کیا ۔ دوسری طرف لینڈ ریفارمز کمیشن جسکو بنانے کا اصل مقصد عوامی مفادات کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت نے خطے کی قانونی حیثیت کو بالائے طاق رکھ کر عوامی مفادات کے خلاف کمیشن کی سفارشات میں فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں موجود خالصہ کے نام پر رجسٹرڈ زمینوں کا 30 فیصد حکومت سمیت دیگر اہم سرکاری اداروں کو دینے اور باقی 70 فیصد عوام میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کیلئے حکومت موقع کی تلاش میں ہے۔ ذرائع کے یہ بھی کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے اس فیصلے پر احتجاج بھی کیا تھا اس وجہ سے عوامی ایکشن کمیٹی کو اس معاملے سے دور رکھ کر رپورٹ تیار کی ہے اور عوامی ایکشن کمیٹی اس وقت اس حوالے سے بھی عوامی رابطہ مہم چلانے کی کوششوں میں ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عین ممکن ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اس کام پر عمل درآمد اگلی حکومت کیلئے چھوڑ دے تاکہ الیکشن میں اُن کیلئےمسائل پیدا نہ ہو۔
گلگت بلتستان اسمبلی لینڈریفارمز کمیشن میں عوامی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا