اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک/ٹی این این)سپریم کورٹ میں کے پی میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،عدالت نے جنگلات کی ملکیت کے دعویٰ داروں کی درخواستیں خارج کر دیں،عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں نے کیس کی سماعت کے دوران کسی سطح پر اپنا حق نہیں مانگا۔دوران سماعت قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو اس کیس میں نظرثانی کے لئے آناچاہیے تھا کہ درخواست گزاروں کا حق دعوی نہیں بنتا،حکمران دیگر مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اصل مسئلہ ماحول کا تحفظ ہے، جنگلات کا تحفظ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے ضروری ہے، جنگلات کاٹنے والے لوگ نسلوں کو قتل کر رہے ہیں۔
قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں کم جنگلات رہ گئے انھیں بھی ویران کیا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں سڑک کنارے 3 درخت لگا کر ڈرامہ کیا جا رہا ہے، کوئی بھی درختوں کے تحفظ کے لئے مخلص نہیں، جنگلات سے متعلق تمام قوانین کرپشن کے تحفظ کے لئے بنائے گئے، اتنا اہم قانون آرڈیننس کے ذریعے کیوں لایا گیا؟ ڈکٹیٹر کے قانون کو کوئی چھونے کے لئے تیار نہیں، ایک آمر آکر دو منٹ میں پارلیمنٹ کو اڑا دیتا ہے، آج کل کے ماحول میں آزادی سے کوئی بات بھی نہیں کر سکتے، ملک کہاں تھا اور کہاں پرلا کے کھڑا کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں جنگلات کی کٹائی میں مسلسل اضافہ ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا سخت ریمارکس۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا