ڈی سی دیامر پر سنگین الزام، نجی بنک سے بے نامی اکاونٹ میں ایک کروڑ سے زائد رقم کی منتقلی کا تہلکہ خیز انکشاف۔

0 0

چلاس(محمد دین /اطلاعات نیوز)قراقرم کواپریٹو بینک چلاس برانچ کے اعلی حکام اور ڈی سی دیامر امیراعظم حمزہ کا قریبی رشتہ دار اور لنگوٹیا یار (غ ۔ل ۔د۔گ ۔ر نامی ٹھیکدار ۔ کے گھٹ جوڑ ۔غیرقانونی طریقے سے ایک کڑوڑ چوہتر لاکھ اٹھاسی ہزار پانچ سو روپے پر مشتمل تین مختلف کراس چیکس بے نامی اکاونٹ میں منتقل کرنیکا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق متاثرین کو اندرون خانہ جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ۔متاثرہ خاندان کے افراد نے پریس کانفرنسز ۔نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر آواز اٹھانے کی مکمل ٹھان لی ۔۔غریب متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم کے آبإ و اجداد کی عمر بھر کی جمع پونجی سے خریدی گئی اراضی اور زیر آب آنے والے درختان کی رقم کواپریٹیو بینک کے اعلی حکام کی کھلی فراڈ اور مقامی بااثر ڈی سی دیامر کا قریبی رشتہ دار اور دوست سے ملکر باہمی تقسیم کیا گیا جس سے متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق سائیلان شاہد اقبال ۔عابد اقبال ۔حامداقبال۔زاہد اقبال۔پسران محمد ظفر مرحوم ساکن جچن چلاس ضلع دیامر کے پشتنی باشندے ہیں اور دیامر بھاشا ڈیم کے حقیقی متاثرین بھی ہیں۔ انکی تمام اراضی، مکانات مویشی خانے درختان زیر آب آرہے ہیں
ان متاثرہ خاندان کے نام ایک کروڑ چوہتر لاکھ اٹھاسی ہزار پانچ سو روپے کا ایوارڈ مرتب کیا گیا جسے انکے چچاذاد بھائیوں اور چچا نے عبوری طور پر روک دی تھی اسی اثنإ میں دو بااثر اشخاص جو ڈی سی دیامر امیراعظم حمزہ کے قریبی رشتہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ لنگوٹیا یار بھی ہیں انہوں نے بغیر اٹھارٹی ایل ۔اے ۔سی ۔سے چیک وصول کیا۔ متاثرہ افراد کے خسرہ نمبرات ۔54.55.58 کے نام سے بنائی جانے والی کراس تین مختلف سرکاری چیکس۔,NBP.0769527 NBP.0769528،.NBP۔0769529،KCBL چلاس برانچ میں غیر قانونی طریقے سے جمع بھی کرایا ۔اور کواپریٹو بنک عملے کے اعلی حکام کے ساتھ مل کر پورا رقم ہڑپ کر لیاگیا۔اس رقم کے ہڑپ کرنے کے بعد نہ تو متاثرہ خاندان کے پاس کوئی رہائشی زمین رہ چکی ہے اور نہ ہی کوئی زرائع آمدنی کی کوئی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ ان متاثرہ خاندان کے افراد نے ہر فورم پر آواز اٹھائی مگر کہیں شنوائی نہیں ہوئی ہے۔بلکہ ڈی سی دیامر کے قریبی رشتہ دار اور لنگوٹیا یاروں نے جان سے مارنے کی دھکمیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
لہذا فورس کمانڈر جنرل احسان محمود ۔چیف سیکریٹری ۔خرم آغا ۔وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمان چیف جسٹس سپریم اپلیٹ کورٹ جی بی ۔گورنر راجہ جلال مقپون۔۔اور ایم آئی ۔آئی ایس آئی و دیگر حساس اداروں کے زمہ داران ان یتیموں پر رحم و کرم کا معاملہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے اس حساس معاملے کی تحقیقات کرکے انکا سہارہ بنیں کیونکہ آپکے علاوہ انکااور کوئی سہارا نہیں ۔

نوٹ: یہ خبر صحافی مولانا محمد دین نے اپنے فیس بُک وال پر شیئر کی ہے خبر کی حقیقت یا جھوٹ ہونے سے ٹی این این کا کوئی تعلق نہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website