شگر(عابدشگری) دو روزہ نیشنل خوبانی فیسٹیول 2019شگرکی رنگا رنگ تقریبات آرگینک ویلیج خوبانستان شگر میں شروع ہوگئی۔ وائس چانسلر بلتستان یونیورسٹی ڈاکٹر محمد نعیم ،ڈپٹی کمشنر شگر زید اور دیگر نے فیسٹیول کا افتتاح کردیا۔محکمہ زراعت شگر نے ضلعی انتظامیہ ،بلتستان یونیورسٹی ۔ای ٹی آئی،۔لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی کی تعائون سے منعقد کی جانی والی اس فیسٹیول کے پہلے روزخوبانی کی اقسام اور ان سے بنی اشیاء کی نمائش کیساتھ لوکل ہینڈی کرافٹ ،دیسی کھانے کے علاوہ ایگری ٹورزم کے حوالے سے سیمینار ، منعقد ہوئی ۔ جبکہ والی بال ،کوپولو،دہ فنگ اور غڑوم کے مقابلے ہوئے۔جبکہزرعی قوالی نے محفل لوٹ لیا۔مختلف اداروں اور لوگوں کی جانب سے لگائی گئی سٹال میں دن بھر لوگوں کا ہجوم رہا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمارا علاقہ ایک زرعی علاقہ ہے یہاں کی زمین زرخیز ہے لیکن لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاپارہا۔ خوبانی شگر کی پہچان ہے لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے کسانوں کو اس پھل کی اہمیت معلوم نہیں۔یہ ہماری ایک نقد آور پھل ہے جوکہ ہزاروں ٹن خوبانی سالانہ ضائع ہوتی ہوتی ہے۔اگر اس کی مناسب اور بہتر طریقے سے سکھایا جائے تو لاکھوں روپے سالانہ ایک کسان کماسکتا ہے۔گلگت بلتستان ایک زرعی علاقہ ہے اور یہاں کے نصف سے زیادہ لوگوں کی ذرائع آمدن کا انحصار زراعت سے وابستہ ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی کمی کی وجہ سے کسان زبوں حالی کا شکار ہے۔ایسے فیسٹیول اور سیمینار سے قیمتی اجناس ، فروٹ،سبزیاں اور خوبانی کو انٹرنیشنل مارکیٹ میں رسائی میں مدد ملیں گے۔اور کسان خوشحال ہونگے۔ پہلی دفعہ اس فیسٹول کا انعقاد پر خوشی ہوئی۔ضلع شگر گلیشرز ، چوٹیاں اور معدنیات سے مالا مال ہے۔یہاں کی خوبانی مقامی لوگوں کی معاشی حالت بدلنے کی طاقت رکھتی ہے اس مقصد کے لئے مقامی کسانوں کو نیشنل مارکیٹ تک رسائی دینا ہو گی۔ فیسٹویل کی تقریبات کل بھی جاری رہے گا۔ جس میں محفل مشاعرہ سیمینار اور دیگر پروگرام شامل ہے۔
ضلع شگر میں دو روزہ نیشنل خوبانی فیسٹیول 2019کی رنگا رنگ تقریبات آرگینک ویلیج خوبانستان میں شروع۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا