گلگت بلتستان کے بلدیاتی ملازمین کے حوالے سے رونگٹھے کھڑے ہوجانے والے تہلکہ خیز انکشافات

0 0

سکردو(ٹی این این) تحریر نیوز نیٹ ورک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کی میونسپل کمیٹیوں ڈسٹرکٹ کونسل اور ایل جی ار ڈی میں 500 سے ذائد ملازمین ہیں ہم نے بعض ضلعوں میں ملازمین سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے ان سے مختلف انداز میں سولات کئے اور حسب ذیل نتائج سامنے آئے جن سے انسانی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
معلوم ہوا کہ ان سے ڈرا دھمکا کر بغیر کسی معاوضے کے 12 گھنٹے 24 گھنٹے کام لیتے ہیں ۔آفسروں کے گھروں میں :ملا زمین کو مختلف چھوٹے بڑے آفیسروں یا ان کے رشتہ داروں کے گھروں میں کام کیلئے بھیجتے ہیں۔اگر خلاف ورزی کریں تو غیر حاضری لگا کر پریشان کرتے ہیں۔شہر سے باہر کام کیلئے لیجاتے ہیں کوئی بونس یا خرچہ نہیں دیتے۔شہر کی مختلف تقریبات بڑے لوگوں کی شادیوں اور دعوتوں کے موقع پر ان ملازموں کو استعمال کرتے ہیں مگر انہیں کوئی مراعات نہیں دی جاتی۔32 سے 15 سال تک کا عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں مستقل کرنے کی بجائے نہایت قلیل تنخواہوں میں گزشتہ آٹھ سالوں سے فیکس کیا ہوا ہے۔جب بھی ان اداروں میں ملازمین کو مستقل کرنے کا موقع آیا تو اثر ورسوخ رکھنے والوں کو بغیر کسی سینیریٹی اور کوالیفیکیشن یا عمر کے مستقل کر دی گی مگر جن غریب اور بے سہارا ملازمین سے کام لیتے ہیں انہیں 5 سے دس ہزار روپے ماہانہ اجرت دی جاتی ہے۔ان عارضی ملازمین سے مستقل ملازمین کے حصے کا کام بھی لیا جاتا ہے جبکہ بعض مستقل ملازمین صرف تنخواہ وصول کرنے دفتر آتے ہیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جب جب مستقلی کیلئے احتجاج کیا انکی آواز دبایا گیا اور انہیں ڈرا دھمکا کر خاموش رکھا جاتاہے گزشتہ آٹھ سالوں سے مستقلی کیلئے احتجاج کیا جا رہا ہے مگر اعلی حکام مسلسل جھوٹے وعدے کر رہی ہے ۔ملازمین کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سارے ملازمین ایسے ہیں جو 25 سال کے عمر میں بھرتی ہوکر اس قت 60 سال پورا ہونے کو ہے مگر انہیں ابھی تک ریگیولر نہیں کیا گیا ہے۔ جبکہ اپنے من پسند لوگوں کو بغیر ٹیسٹ انٹر ویو بلکہ شکل تعلیم پوچھے بغیر مستقل کر لیا ہے۔ملازمین نے ہم سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ گلگت بلتستان اسمبلی کے سامنے خود سوزی کر کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرنے پہ مجبور ہونگے اور نتائج کی تمام تر زمہ داری گورنمنٹ گلگت بلتستان اور سارے چیف آفیسرز ہونگے۔آج تک ان غریبوں کے بارے میں کوئی نہی سوچتا ہے اکثر اس دنیا سے بھی چلے گئے یہ طبقاتی اور معاشرتی ناانصافی کی بربریت ہے کہ ان غریوں کا کوئی پرسان حال نہی جنکی سفارش ہے وہ سال بعد بھی پکے ہوتے ہیں اخر یہ لوگ جائیں کہاں ؟ گلگت بلتستان حکومت اور ادارہ نوٹس لیں ورنہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہوسکتا ہے انکی حالت بہت تشویشناک ہے مہنگائی کے اس طوفاں میں چار اور پانچ ہزار سے گھر چلانا کیا آسان ہے حکومتی ارکان اتنے پیسے ایک وقت کے منرل واٹر میں خرچتے ہیں ۔ایسے میں معاشرے کے تمام اہل دل کو سوچنا ہوگا ان غریبوں کے بارے میں آخر انکا یہی قصور ہے کہ انکا کوئی سفارشی نہی؟ کیا معاشرتی انصاف یہی ہے کہ ہم انکھ بند کر کے آگے نکل جائے؟

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website