کھرمنگ (تحریر نیوز) ضلع کھرمنگ معرض وجود میں آنے سے لیکر اب تک تقریبا تین ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوچُکی ہے یہی سبب ہے کہ اس وقت نوازئیدہ ڈسٹرک نون لیگ کے مقامی عہدے داروں اور خود کو عوامی لیڈر کہلانے والے مفاد پرستوں کے رحم کرم پر چل رہی ہے۔ ضلع کھرمنگ میں ترقیاتی کاموں ،اداروں کی تقسیم سے لیکر چپراسی کی بھرتی تک کے معاملات میں حکمران جماعت کے لوگ انتطامیہ سے آگے نظر آتا ہے لیکن پانچ اہم ادارے فارسیٹ،نادرہ،پاسپورٹ آفس،سول سپلائی اور ایکسائز اینڈ ٹیکشن کے اداروں کو ابھی تک ریکوزیشن پر چلایا جارہا ہے، دوسری طرف اقبال حسن اور ناشاد کے حواری آج بھی سرکاری فنڈز کی بندبانٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کرہڑپنے میں مصروف ہیں۔ ضلعی ہیڈکوراٹر کا مسلہ سیاسی چپلقشوں اور مستقل بنیاد پر ڈی سی تعینات نہ ہونے کی وجہ سے حل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہا، عوام طولتی سے مہدی آباد تک منقسم سرکاری دفاتر میں مواصلات کی عدم دستیابی سے پریشان حال ہیں ، مقامی ٹیکسی ڈرائیوروں نے کرایوں کے نام عوام لوٹنا شروع کیا ہوا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
عوامی حلقوق کا کہنا ہے کہ کھرمنگ میں لوکل سطح پر چلنے والے پرایئوٹ ٹیکسی والوں کیلئے سرکاری شرح کرایہ وضع کریں یا نیٹکو ویگن سروس چلائے جائیں۔ حکومتی اثر رسوخ کی بنیاد پر بہت سے علاقوں میں سرکاری دفاتر کے خاکروب اور چوکیدار اپنی ذمہ داریوں کو خیرباد کہہ کر باقاعدہ سیاست کرتے ہیں اس وجہ سے عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے ایک طرح سے کھرمنگ میں جنگل کے قانون کا سماں ہیں۔
ضلعی انتطامیہ کو چاہئے کہ وہ تمام افراد جو کوئی قلی،کوئی خاکروب اور کوئی کسی سرکاری دفاترکے چواکیدار ہیں مگر باقاعدہ سیاست کرتے ہیں ٹھیکوں کی لین دین کرتے ہیں اُن سب کی لسٹ مرتب کرکے اُن کے مالی حساب کتاب کی چھان بین کریں اور کرپشن میں ملوث عناصر کو نیب کے حوالے کریں۔
مستقل طور پر ڈپٹی کمشنر تعینات نہ ہونے کی وجہ سے نوزائدہ ڈسٹرک کھرمنگ مسائلستان بناہوا ہے ،حکومتی چیلے سفارشوں کی بنیاد پر اداروں پر قابض،پانچ اہم ادارے ابھی تک قائم نہیں ہوسکے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا