گلگت( تحریر نیوز) چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس نے موجودہ حکومت کی جانب سے امن کا کریڈیٹ لینے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ یہ اُس وقت کی بات تھی جب گلگت بلتستان میں لوگ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کیلئے تیار نہیں تھے اور ہم نے بین المسالک میٹینگوں کے ذریعے اس مسلے کو ختم کرنے کا بیڑا اُٹھایا اور پہلے مرحلے میں باہمی مشاورت سے مسلک اہلسنت کے ایک نمائندے کو انتظامیہ کے پاس اس صورت حال کی جانچ پڑتال کیلئے بیجا تو معلوم ہوا کہ سرکاری افیسر ملازم کم بلکہ اہلسنت کا درد مند ذیادہ لگ رہا تھا،اسی طرح ہم نے دوسرے مرحلے میں مکتب اہل تشیع کے ایک نمائندے کو انتظامیہ سے امن امان کی صورت حال پر میٹینگ کیلئے باہمی مشورے سے روانہ کیا تو اُن کے سامنے ایسے پیش آیا جیسے گلگت بلتستان میں امن امان کی صورت حال کے اصل ذمہ دار اہلسنت ہیں۔
جب عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں نے جب ذمہ دار اداروں کے اس منافقانہ پالیسی کواپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا تو ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ دراصل سرکار نہیں چاہتے کہ گلگت بلتستان میں امن امان کی فضا قائم ہو تاکہ یہاں کے عوام کے اندر قومی حقوق کیلئے جو لاوا پک رہی ہے اسے پھٹنے سے بچایا جاسکے۔ اس تمام صورت حال پر بڑے غور خوص کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت کے تمام تھانوں میں لوکل انتطامیہ اور بااثر لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ہمیں کامیابی ملی اور ہم نے انتطامیہ کو انتباہ کیا کہ کسی بھی شیعہ سُنی کا قتل مخالف مسلک کے خلاف نہیں بلکہ لوکل انتطامیہ اور بااثر سرکاری ذمہ داران کے خلاف درج ہوگا۔ اُس وقت موجودہ حکومت کے لوگ عوامی ایکشن کمیٹی کے مشاورتی میٹنگوں میں باقاعدہ شریک ہوتے تھے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ بنانے میں ہمارا ساتھ دیا تھا لیکن جب اُنکی حکومت آئی تو روئے اور مزاج میں تبدیلی آئی جس پرہمیں افسوس ہے۔
اُنہوں کہا کہ آج اگر مقامی حکومت امن امان کا کریڈیٹ لینا چاہئیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن عوامی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کے خلاف کریک ڈوان کو روکا جائے، حقوق کیلئے سڑکوں پر نکلنے والوں پر الزامات لگانے کی روش کو ختم کیا جائے یہی ہمارا مطالبہ ہے۔ اگر حکومت اس سلسلے میں عوام کےساتھ کھڑے ہیں تو عوامی ایکشن کمیٹی بھی حکومت کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا