25جولائی کی شام 6 بجے کا وقت تھا جب میں اور میرے دوست مظفر ساول لنک روڈ بسین کے پاس گاڑی روک کر محوِ گفتگو تھے جب محلے کے ایک لڑکے نے خبر دی کہ چھلت نگر کے پاس کار-باٸیک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں کاشف اور شایان کی موت واقع ہوٸی ہے ۔
کاشف کی عمر تقریبا 22 برس تھی جبکہ شایان 14 سال کی عمر میں ہی خالق حقیقی سے جاملا ۔ کاشف ایک بہترین کرکٹر تھا اور گلگت بلتستان ٹیم کی نماٸندگی کرتے ہوٸے کٸی بار انڈر 18 ٹیم میں اپنا لوہا منوا چکا تھا ۔ واقعہ کی شام کو کاشف کے سگے بھاٸی کی شادی تھی اور اطلاعات کے مطابق وہ شادی کے دعوت نامے پونچانے کیلے ہی نگر گیا ہوا تھا ۔
ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں موت واقع ہونے کی خبر ابتداٸی طور پہ ہم سب کو افواہ لگی مگر جب دوسرے تمام زراٸع کی جانب سے کنفرمیشن ملنے لگی تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔ شادی والا گھر ماتم میں بدل گیا اور ہر جانب آہ و بکا کی صداٸیں بلند ہونے لگی ۔اس دوران اچھا خاصا وقت گزر چکا تھا تو میں ٗسید تجمل آغا اور مظفر ساول میت کو لینے نکل پڑے ۔ راستے میں واقعہ سے مطعلق لوگوں کے تجزیے بھی سننے کو ملے کوٸی کہتا کہ غلطی تو بس باٸیک والوں کی ہی ہوتی ہے اور کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ غیر مقامی سیاہ روڈ سے عدم واقفیت کی وجہ سے غلطی کر جاتے ہیں ۔
انہیں چہ مہ گوٸیوں میں وقت گزرتا گیا اور رات ایک بجے کے قریب دونوں میتیں ریسکیو 1122 کی ایمبولنس کی مدد سے مرکزی امامیہ جامع مسجد پونچاٸی گٸیں تو وہاں پہ پہلے سے موجود جم غفیر دونوں نوجوانوں کی میتیں دیکھ کر اپنے حوش و حواس کھو بیٹھا ۔
تھوڈی دیر بعد میری ملاقات ولایت بھاٸی سے ہوٸی جوکہ دونوں مرحومین کے چچا اور سارے معاملات میں پیش پیش تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کارواٸی اور ہسپتال کے لوازمات برابر کر نے میں وقت لگا جسکی وجہ سے پہنچنے میں دیر ہوٸی ۔ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جس کار کیساتھ بھتیجوں کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اس میں ایک فیملی سیاحت کی غرض سے لاہور سے آٸی ہوٸی جس میں میاں بیوی کے علاوہ دو چھوٹے بچے ہیں اور ایک بچہ ابھی گود میں ہے لہذا انہوں نے پولیس والوں کو بتایا ہوا ہے کہ مہمانوں کیساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہ رکھا جاۓ ۔ دونوں جوان بھتیجوں کی میتوں کو سامنے رکھ کر ایسی باتیں کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔
اسی اثنا ٕ میں رات کافی گزر چکی تھی مجمعے میں موجود چند بزرگوں نے کہا کہ دفن کفن کا اہتمام صبح کیا جاٸے گا لہذا چند لوگوں کے علاوہ باقی اپنے گھروں میں جاکر آرام فرماٸیں تاکہ صبح سویرے تدفین کے فراٸض انجام دیے جاسکیں جسکے بعد ہم اپنے گھروں کی جانب روانہ ہوٸے اور اعلان کے مطابق صبح جب تدفین کے لیے پہنچے تو معلوم ہوا کہ کاشف کی والدہ اور والد صاحب جواں سال بیٹے کی میت کو دیکھ کر بے حوش ہوٸے ہیں جنہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا ہے اور شایان کی والدہ کا بھی یہی حال تھا ۔
تدفین والی جگہ پہ موجود ولایت بھاٸی نے مجھے اشارہ کرکے پاس بلایا اور کہا کہ تدفین کے فورا بعد وہ نگر میں متعلقہ پولیس سٹیشن جانے لگے ہیں تاکہ وہاں پہ موجود مہمانوں کو عام معافی دیکر پولیس کی قید سے رہا کروالیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سلسلے میں کاشف اور شایان کے والدین سے بات ہوٸی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ پولیس رپوٹ ، وہاں پہ موجود لوگوں کے بیانات اور کیمرہ فوٹیجز سے یہ بات ثابت ہوٸی ہے کہ کار ڈراٸیور نے انتہاٸی ریش ڈراٸیونگ کرتے ہوٸے اگلی ساٸیڈ پہ آکر موٹر ساٸیکل کو ہٹ کیا ہے جسکی وجہ سے یہ سارا واقعہ رونما ہوا ہے اور سیاہوں نے بھی اپنی غلطی تسلیم کرتے خون بہا بھی ادا کرنے کی آفر کی ہے مگر دونوں مرحومین کے والدین نے مجھے کہا ہے کہ انہیں یہ کہ کر فی سبیل اللہ معاف کردوں کہ ہم امام حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ سزا دینے کی استطاعت رکھتے ہوۓ معاف کرنا سب سے بڑی نیکی ہے ۔ جس طرح کروڈوں روپے دینے کے باوجود ہمارے جوان ہمیں دوبارہ نہیں مل سکتے ویسے ہی ہم اپنے ضمیر کا سودا بھی پیسوں کے عوض نہیں کر سکتے ہمارا ضمیر یہ گوارہ نہیں کر رہا کہ ایک ماں اپنے شیر خوار بچے کے ہمراہ پولیس کسٹڈی میں رہے لہذا ہم اول وقت میں ہی اپنے پیاروں کا خون اللہ و پنجتن کی خاطر معاف کرتے ہوۓ آپ کے زریعے دوسرے سیاہوں کو بھی یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خدا را تیز رفتای اور بے احتیاتی سے گریز کریں تاکہ کسی اور کے گھر میں یوں ماتم برپا نہ ہو ۔
تحریر: ایڈوکیٹ حیدر سلطان
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟