سطر عنوان نجات مانوشت۔۔۔

0 0

جناب عمران خان صاحب نے دورہ امریکہ مکمل کیا اور وطن واپس بھی پہنچ گئے۔اب تک پاکستان کے کئی صدور اور وزرائے اعظم امریکہ کے دورے کرچکے ہیں ۔ان میں سوائے ایک ادھ کے کسی نے ایسا کوئی دورہ نہیں کیا جس سے پاکستان کے وقار کو بلند کرنے میں مدد ملے ‘ یا پاکستان کی دیرینہ مشکلات کے حل کی صورت نکلے ‘ یا ہمارے کسی سربراہ نے امریکہ کے سربراہ کے ساتھ اس طرح بات کی ہو کہ دونوں ہم پلہ نظر آئیں۔سربراہان مملکت کے غیر ملکی دوروں کے اچھے اور برے نتائج یا دیرپا اثرات تو وقت کے ساتھ دنیا دیکھتی ہے لیکن اس دورہ کے دوران اسی لمحے ان سربراہان کی باڈی لنگویج سے ہی ان کی ملاقات ‘ بات چیت کے انداز اور نتائج کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔اگر ہم پاکستان کے کسی سربراہ اور امریکہ کے سربراہ کی ملاقاتوں کا ایک جائزہ لیں تو الحمد اللہ ہمارا سر جھکتا نہیں بلکہ بلند ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بھی دنیا کے باعزت قوم کے فرد اور ملک کے شہری ہیں۔ان میں سے پہلا سربراہ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان تھے جنہوں نے اپنا ملک ہو یا امریکہ کے دورے کے دوران ہو اپنا باڈی لنگویج یعنی رکھ رکھاؤ ایسا رکھا کہ وہ عزت و وقار میں امریکی صدر سے بھی بلند نظر آتا تھا‘ یہی ہمیںجنرل مشرف کے دورۂ امریکہ میں ان کے باڈی لنگویج اور طور اطوار میں ملتا ہے ۔لگتا تھا کہ صدر پاکستان جنرل مشرف اور صدر بش دونوں ایک ہم پلہ ملک کے سربرا ہ ہیں۔اور پاکستان کا تیسرا سربراہ مملکت وزیر اعظم عمران خان جو کہ کوئی فوجی جرنیل یا آمرنہیں بلکہ سر تا پا اور اپنے پورے ایمان کے ساتھ ایک مکمل جمہوریت پسند سیاست دان ہیں جنہوں نے کافی حد تک نا خوشگوار سیاسی ماحول میں امریکہ کا دورہ کیا اور کامیاب ترین دورہ کیا۔عمران خان صاحب میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ او ل تو اس میں کسی بھی قسم کی احساس کمتری نام کی کوئی چیز نہیں دوسرا ان میں ڈر خوف نام کا بھی کوئی نام و نشان ہے۔انسان کی ملاقات میں رکھ رکھاو ‘ انداز گفتگو اور چہرے کے تاثرات کا مقابل پر بڑا اثر پڑتا ہے ۔ دنیا بھر میں دوست دشمن سب نے دیکھا کہ عمران خان صاحب امریکہ جیسے طاقتور ترین ملک کے تقریباً غیر متوازن مزاج کے صدر سے کس طرح ملے ‘ کس طرح اپنا مافی ضمیر اور اپنا نظریہ کا بر ملا اظہار کیا ۔اس دورہ میں امریکہ کی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو ایک اہم ترین بات کی طرف توجہ مبذول کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ امریکہ اور ایران کے درمیاں موجود اختلافات اور حالیہ دنوں میں دو نوں کا جنگ کی تیاریوں کے تناظر میں امریکہ کو یہ واضح طور خبردار کرنا کہ وہ ایران پر کسی قسم کے حملے کی غلطی نہ کرے۔ عمران خان صاحب کی کوشش اسی وقت کامیاب ہوتی نظر آئی جب ابھی ان کا دو روزہ دورہ ختم بھی نہیں ہواتھا۔عمران خان صاحب نے دو ٹوک الفاظ میںمریکہ کو متنبہ کرنے کے لئے کہاکہ ’’ایران کو وہاں نہ دھکیلا جائے جہاں سے شدید مزاحمت کا سامنا ہو۔اسلام میں شہادت کا عنصرقدرتی طور پر شامل ہے‘ اور سنی مسلمانوں کی نسبت شیعہ مسلمانوں میں جذبہ شہادت زیادہ ہوتا ہے ‘‘۔ ان الفاظ کے ذریعے عمران خان صاحب نے پوری دنیا کو آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کربلا کے اس معرکہ کی یاد دہانی کی جس میں مٹھی بھر مسلمانوں کی جماعت نے حق اور انصاف کے لئے ایک بڑی ریاست کے بڑی فوج سے ٹکر جانے میں ذرا بھی تامل نہیں کیااور چھ ماہ کے بچے تک کی شہادت پیش کی لیکن باطل اور ظالم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا‘‘ ۔ یہ جذبۂ شہادت دنیا بھر کے حریت اور انصاف پسند قوم اور افراد کے لئے ایک ابدی نمونہ بنا ہوا ہے۔عمران خان صاحب بجا طور پر سمجھتے تھے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کردیا تو چین اور روس بھی ایران کے حق میں اس جنگ میں کود پڑیں گے اور لامحالہ تیسری عالمی جنگ کی تباہ کاریاں پوری دنیا کو شدید متاثر کرے گی۔نیز ایران چونکہ پاکستان کا ہمسایہ اور برادر ملک ہے اور دونوں کی بری ‘ فضائی اور بحری سرحدیں ایک دوسرے سے جڑی ہوی ہیں اسلامی جذبہ اور قدریں بھی مشترک ہیں لہذا اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کا شدید متاثر ہونا بھی یقینی ہے اور پاکستان اس جنگ کے مضمرات اور نتائج کے بارے میں متفکر ہے اورپاکستان کی کوشش ہونی چاہیے کہ یہ جنگ کسی نہ کسی طرح ہونے نہ پائے لہذا موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوے امریکہ کی تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوے عمران خان صاحب نے امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک کو اپنی رنگیں تصورات سے نکلنے اور حالات کا صحیح ادراک کرنے کے لئے کربلا کی شہادت کو استعارہ کے طور پرپیش کرکے امریکہ کو متنبہ کیا۔انہوں نے امریکہ کو یہ باور کرایا کہ امریکہ ایران کو شام و عراق نہ سمجھے ۔ ایران اپنے عقائد کے اعتبار سے کربلا کے راستے پر ہی ہے کہ جب ایک سچا مسلمان حق کے لئے باطل کے مقابل کھڑا ہوتا ہے تو وہ چھوٹا اور کمزور نظر آنے کے باوجود اپنے خون سے ایسی تاریخ لکھ دیتا ہے جسے نہ دنیا مٹا سکتی ہے اور نہ گردش دوران اسے انسانیت کی نظروں سے غائب کرسکتا ہے ۔ ایران پر حملہ گویا امریکہ کی اپنی تباہی ہوگی جیسا کہ کربلا کی جنگ کے بعد یزید نابود ہوا تھا ۔عمران خان صاحب کے ان الفاظ سے یہ بات یقینی ہے اب امریکہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ عمران خان صاحب کے ان بے باک اور کھری باتوں کا فوری اثر امریکی صدر پر پڑا اور وہ متاثر بھی ہوے اور متفکر بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے نہ صرف عمران خان صاحب کو دنیا کا سب سے بڑا لیڈر ہونے کا اعتراف کیا اور پیشکش بھی کی کہ اگر پاکستان چاہے تو وہ مسئلہ کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے ثالث بننے کے لئے تیار ہے۔پاکستان کے بارے میں سات دہائیوں سے امریکہ کا عیارانہ اور آمرانہ رویوں کے بعد عمران خان صاحب کو دنیا کا بڑا لیڈر تسلیم کرنا اور اپنی طرف سے کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کی پیشکش کرنا پاکستان کی نظریاتی اور سفارتی حوالے سے بہت بڑی کامیابی ہے اور پاکستان کی تاریخی فتح ہے ۔اس دورے کے دوران عمران خان صاحب نے دنیا اور خصوصا امریکہ کو جھنجوڑا ہے اور ان کی سوچ میں امن اور انصاف کا جو بیج بویا ہے وہ ضروربارآور ہو گا اور اس کی کونپلیں ‘ پھول اور پھل سے دنیا مستفیض ہونا شروع ہوجائے گی۔ ساتھ ہی کم از کم ہمارے وطن پاکستان کو ایک عرصہ تک کے لئے کسی بڑی جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ کرلیا۔لیڈر شپ اسی کو کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے ایک لفظ ایک پیغام سے دنیا کو متاثر کرے اور دنیا کی سوچ اور رویوں کو ایک نئی جہت دے۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
تمام شد۔

تحریر: سید محمد عباس کاظمی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website