رائے شماری کی صورت میں گلگت بلتستان کا قومی بیانیہ کیا ہوگا۔؟

0 0

محترم قارئین گزشتہ ہفتے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا دورہ امریکہ کے بعد امریکی صدر کی جانب سے مسلہ کشمیر کی حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کے بعد پاکستان اور ہندوستان اور منقسم ریاست جموں کشمیر کےاکائیوں میں ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات میںاس بات کا انکشاف کیا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن سے مسلہ کشمیر حل کرانے کی درخواست کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹیوٹر پر پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی کہ امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرے۔ اُنہوں نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے لکھا کہ اس معاملے پر بھارت کی مستقل پوزیشن یہی رہی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات اُس وقت ممکن ہوں گے جب وہ سرحد پار ہونے والی دہشت گردی ختم کرے۔ اُنہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین تعلقات دو طرفہ نوعیت کے ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ موجود ہیں۔ اس اہم موقع پر بھارت کی جانب سے شملہ معاہدے کے ذکر کا اپنی جگہ اہمیت ضرور ہے وہیں مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کے قراداوں کے ہوتے ہوئے دو طرفہ شملہ معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت بھی نہیں کیونکہ اس معاہدے میں ایک فریق اقوام متحدہ شامل نہیں تھے۔ شملہ معاہدہ کی حیثیت پر طویل بحث ہوسکتا ہے لیکن ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کشمیری قیادت کی طرف دیکھیں تو پاکستان کے زیرانتظام آذاد کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر لداخ کے سیاسی رہنماوں نے اس بیان پر بہت ذیادہ مسرت کا اظہار کیا اور مسلہ کشمیر کو دو مُلکوں کے درمیاں انسانی مسلہ قرار دیکر حل کی طرف بڑھنا خوش آئند قرار دیا جارہا ہے۔ لیکن جب ہم گلگت بلتستان کی بات کریں تو یہاں ہمارا خطہ مکمل طور پر غائب نظر آتا ہے حالانکہ گلگت بلتستان کے عوام کا مہاراجہ کشمیر کی جانب الحاق بھارت کےنتیجے میں بغاوت اور اُس بنیاد قائم حکومت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی جانب سےگلگت لوکل اتھارٹی کا حکم اور عمل نہ کرکے معاہدہ کراچی سے باندھنے کے بعد سے آج تک کی صورت حال میں گلگت بلتستان سیاسی اور معاشی ترقی کے میدان میں مکمل طور نذرانداز نظر آتا ہے وہیں اس خطے کی قومی تشخص کے سوال پر آج تک کسی نے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس خطے کی بطور پاکستانی علاقے کے کوئی پہچان ہے اور نہ ہی اس خطے کو مکمل طور پر ریاست جموں کشمیر کے دیگر اکائیوں میں نافذ حقوق حاصل ہیں ۔
گلگت بلتستان کے عوام کا نکتہ نظر اور خواہشات اپنی جگہ لیکن ریاست پاکستان گلگت بلتستان کو بھی ریاست جموں کشمیر کا باقاعدہ قانونی حصہ تسلیم کرتی ہے اور بھارت بھی گلگت بلتستان پر ریاست جموں کشمیر کی ایک اہم اکائی کی حیثیت اور مہاراجہ کشمیر کی جانب سے الحاق کی بنیاد پر دعویدار ہے۔اب اگر ٹرمپ پر ایمان لاتے ہوئے رائے شماری کی اُمید لگاتے ہیں تو اس وقت گلگت بلتستان کی اہمیت پہلے سے کہیں ذیادہ ہے کیونکہ گلگت بلتستان اور لداخ ریاست کی سب سے بڑی اکائی اور رقبہ والا خطہ ہے۔لہذا رائے شماری کی صورت میں گلگت بلتستان اور لداخ کے عوام کا ووٹ جس بھی طرف پڑے گا فیصلہ اُن کے حق میں جائے گا۔ لیکن کشمیر ی قیادت جو گلگت بلتستان کو معاہدہ کراچی کے ساتھ باندھ کر اس خطے کو مکمل طور پر بھول گیا تھا اُنہیں شائد اب احساس ہورہاہے کہ گلگت بلتستان کی نئی نسل بیدار ہوچُکی ہے اور جب سے سوشل میڈیا آئی ہے گلگت بلتستان کے نئی نسل میں احساس محرومی کا نوحہ لاوا بن کر پھٹنے کے قریب ہے۔یہاں ایک طرف مقامی سطح پر مراعات یافتہ طبقے نے دہائیوں تک عوام کو یہی بتایا کہ گلگت بلتستان نے پاکستان کا مکمل صوبہ بننا ہے اور اس راہ میں کشمیری قیادت سب سے بڑی رکاوٹ ہے دوسری طرف پاکستان کا مسلہ کشمیر پر ریاستی موقف شروع دن سے یہی ہے کہ گلگت بلتستان بھی دیگر اکائیوں کی طرح ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے لیکن اُس بنیاد پر حقوق دینے سے آج تک کتراتے رہے ہیں۔
محترم قارئین۔ مگربدقسمتی سے متنازعہ حیثیت کے باوجود گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کا باشندہ ریاست قانون سٹیٹ سبجیکٹ رول کی 1974 سے خلاف ورزی شروع ہوئی جو آج ایک بیماری بن چُکی ہے لیکن کسی کشمیری لیڈر یا پارٹی نے اس حوالے سے موثر انداز میں آواز بلند نہیں کیا۔ اسی طرح جو قوانین متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر آذاد کشمیر میں نافذ ہیں بلکل وہی حیثیت گلگت بلتستان کا بھی ہونے کے باوجود یہاں قانون کے نفاذ کا طریقہ کار بلکل مختلف ہے۔ اس حوالے سے ہیومن رائٹس کمیشن کی سابق سربراہ عاصمہ جہانگیر مرحومہ نے حقائق جاننے کیلئے اگست 2016 میں گلگت کا دورہ کی تھی۔ اپنی رپورٹ میں اُنہوں نےوفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کے جمہوری فورمز کو مزید اختیارات دیں، مقامی لوگوں میں سے جج تعینات کرے اور یہاں کے آئی ڈی پیز کے مسائل حل کرے۔ اُنہوں نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر بھی شدید خدشات کا اظہار کی تھی کہ گلگت بلتستان میں کوئی بھی کسی سرکاری ادارے پر ذرا سی بھی تنقید کرے ایجنسیاں انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوراً گرفتار کر لیتی ہیں۔ اُنہوں نے گلگت بلتستان کی عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے اورسی پیک کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت نے مبینہ طور پر مقامی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انھیں زبردستی گھروں سے نکالا ہے اور ان کی زمینیں ہھتیا نے اورشہریوں کی زمینیں ریاستی اداروں کو الاٹ کرنے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کی تھی۔
محترم قارئین یہ وہ خبریں ہے جو دو سال قبل بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی تھی لیکن زمینی حقائق اس بھی افسوناک ہے۔ خطے میں ایک طرح سے بیوروکریسی اور دیگر قوتوں کی راج ہے عوامی نمائندوں کی کوئی حیثیت نہیں،ایک ڈپٹی کمشنر ایک طرح سے پورے علاقے کا مالک ہوا کرتے ہیں اور اس صورت حال میں جہاں معاشرتی انفراسٹکچر کی بدحالی اپنی جگہ وہیں بہتر سالہ محرومیوں کا ذکر ایک طرح سے سنگین جرائم کے زمرے میں آتا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔اس بڑھ کر ستم ظریفی اور کیا ہوسکتا ہے کہ میرا  یہ مضمون گلگت بلتستان کے اخبارات کیلئے ناقابل اشاعت ہے اس سے ہم خطے میں آذادی صحافت کا بھی اندازہ لگا سکتے ہیں۔مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے گلگت بلتستان پر دعویدارے کشمیری قیادت بلکل ہی لاتعلق نظر آتا ہے ۔لیکن اب اگر امریکی صدر مسلہ کشمیر حل کرنا چاہتا ہے تو کشمیری قیادت کی نظریں ایک بار پھر گلگت بلتستان پر جم چُکی ہے اور اُن کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان اور لداخ کے عوام آج بھی اُنکی تابیداری کریں جو کہ مشکل نظر آتا ہے۔
محترم قارئین۔ اگر ہم گلگت بلتستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات معلوم ہوتا ہے کہ لداخ اور گلگت بلتستان کے لوگوں نے رنجیت سنگھ سے لیکر ہری سنگھ تک کی حکومت کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا کیونکہ یہ حکومتیں جبر کی بنیاد پر قائم تھی یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد گلگت بلتستان والوں نے موقع ملتے ہی کشمیر کے بادشاہ سے بغاوت کا اعلان کیا۔لیکن آج چونکہ قوانین اُس بنیاد پر بن چُکی ہے پاکستان ہندوستان اور اقوام متحدہ میں ریاست جموں کشمیر کے بادشاہ کی قوانین کو تسلیم کرکے اُسی بنیاد پر مسلہ کشمیر کی حل کیلئے روڈ میپ دی ہوئی ہے ۔ ایسے میں دل نہ چاہتے ہوئے بھی گلگت بلتستان آج بھی پاکستان ہندوستان اور اقوام متحدہ کے مطابق ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے لیکن گلگت بلتستان کے شہری کشمیر ی بلکل بھی نہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بطور باشندہ ریاست کے حقوق حاصل نہ ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کو کشمیری تو کہتے ہیں لیکن اس خطے کے عوامی مسائل سےکوئی سروکارنظر نہیں آتا۔ اب اگر مسلہ کشمیر حل کی طرف گامزن ہے تو گلگت بلتستان کے لوگوں نے بھی خوشی کا اظہار کرنا شروع کیا ہے کیونکہ مسلہ کشمیر حل ہونے کی صورت میں جہاں گلگت بلتستان کی بہتر سالہ محرومیوں کے ازلے کی اُمید ہے وہیں گلگت بلتستان کے عوام کو قومی پہچان مل سکتا ہے جو آج تک منجمد ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں کے پوسٹ کمنٹس اور یوتھ کے تندوتیز خدشات اور سوالات سے ایسا لگتا ہے کہ کشمیری اگر گلگت بلتستان کو مستقبل میں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے تو گلگت بلتستان کے ساتھ عمرانی معاہدہ طے کرکے ریاست کےقانونی نام کی تبدیلی ، وسائل اور اختیارات کی تقسیم کیلئے فارمولہ طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ لفظ کشمیر صرف ایک وادی کی ترجمانی کرتی ہے جبکہ ریاست کے اندر کئی قومیں آباد ہیں جو اپنی الگ تاریخی شناخت اور اہمیت رکھتے ہیں۔اسی طرح اگر گلگت بلتستان کے عوام کا ووٹ پاکستان کو جاتی ہے تو بھی الگ مکمل آئینی صوبے کیلئے عمرانی معاہدہ کرنا ہوگا کیونکہ اس خطے کے عوام اپنی لاعلمی کی وجہ سے گزشتہ دہائیوں سے صوبے منتظر ہیں یہاں کے عوام آج بھی مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت سے نا واقف نظر آتا ہے جس کی اصل وجہ آج تک کسی نے اُن کو یہ بتانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ مقامی سطح پر جولوگ اس حوالے سے تاریخی حقائق اور پاکستان کے ریاستی بیانئے کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں اُنکے ساتھ انتظامیہ کا رویہ اوپر بیان کرچُکا ہوں۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ گلگت بلتستان کی محرومیوں کو سیاسی اور میڈیا کے پلیٹ فارم پر زیر بحث لائیں اس خطے کی بہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں ورنہ اس وقت نئی نسل کی فکر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام یکم نومبر 1947 کو قائم سولہ دنوں پر مشتمل اپنی الگ جداگانہ حیثیت کا مطالبہ کریں گے۔

تحریر : شیر علی انجم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website