گلگت(ٹی این این) گلگت بلتستان کے معروف سوشل ایکٹوسٹ اور قوم پرست رہنما نثار حسنین رمل کو سیکورٹی اداروں نے گرفتار کرلیا۔ فیملی ذراِئع کے مطابق گزشتہ رات 1:30 بجے ایک ایس پی سمیت سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرکے جوٹیال تھانہ منتقل کردیا خاندانی ذرائع کے یہ بھی کہنا ہے کہ حسنین رمل کا موبائل فون اس وقت پولیس افسر کے پاس ہے لہذا اُن کے فیس بُک پر کوئی بھی پوسٹ یا میسج آئے احتیاط کریں۔یاد رہے حسن رمل نے گزشتہ روز ضلع غذ ر کے عوام سے اظہار یکجہتی اور گلگت بلتستان کے سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں کے خلاف یواین چوک ذولفقار آباد آباد جوٹیال گلگت کے مقام پر سول سوسائٹی گلگت کی جانب احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی ۔
اُنہیں اگست 2017 میں سوشل میڈیا پر عوامی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے جرم میں دہشت گردی ایکٹ اور سوشل میڈیا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا تھا اُنکے خلاف اُن کی سوشل میڈیا کی ایکٹویٹیز کو جواز بنا کر ہنزہ میں ایف آئی آر درج کی تھی اور ہنزہ پولیس نے اُنہیں گلگت سے گرفتار کرکے دس ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ حسنین رمل محکمہ پی ڈبلیو ڈی میں 16 ویں سکیل کے عہدے پر فائز تھے لیکن گلگت بلتستان کے قومی مسائل بے باک موقف رکھنے کی وجہ سےپانچ قبل انہیں سرکاری نوکری سے معطل کیا تاکہ پریشر ڈال کر انکی زبان بندی کی جاسکے۔ لیکن حسنین رمل نے ہار نہیں مانی، گلگت بلتستان میں اداروں کی من مانی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت اور موجودہ حالات میں سی پیک جیسے اہم پراجیکٹ میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے اور اس میں گلگت بلتستان کو بحیثیت فریق نہ لینے پر بے باک موقف کے ساتھ عوامی ترجمانی کرنے کی وجہ سے دو سالبعداُن کی تنخواہ بھی بند کردی گئی اور انکے نوکری پیشہ ایک بھائی جو کہ کراچی میں مقیم ہیں انہیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت شیڈول 4 میں ڈال دیا گیا تاکہ معاشی طور پر مجبور کرکے حسنین رمل کی آواز کو بند کیا جاسکے۔ لیکن حسنین رمل شدید معاشی تنگدستی کے باوجود عوامی حقوق کے لئے سوشل میڈیا میں آواز اٹھانے پیچھے نہ ہٹے اور گزشتہ ہفتے ضلع غذر کے ہندوپ نالے پر کوہستان کی جانب سے دراندازی اور چار افراد کی اغواء کے خلاف گلگت کے عوام کو متحرک کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے۔
ہمارے نمائندے نے کشروٹ جے آئی ونگ میں حسنین رمل سے مختصر ملاقات کی اُنہوں نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ایک نان لوکل ایس پی کی قیادت میں سادے کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے رات دو بچے مجھے گھر سے گرفتار کیا اور اس وقت یہاں رکھا ہوا ہے لیکن ابھی کچھ نہیں بتایا جارہا ہے کہ اُن کے ساتھ کیا کرنے والا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ گرفتاری کی اصل وجہ این او آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی کال ہے۔
پُرامن احتجاج جُرم بن گیا،گلگت بلتستان کے معروف سوشل ایکٹوسٹ حسنین رمل دوبارہ گرفتار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا