پاکستان تحریک انصاف نے بلتستان کے ساتھ زیادتی کی ہے، پی ٹی آئی کے بانی رہنما کا شکوہ۔

0 0

سکردو(پ۔،ر)پاکستا ن تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینیر رکن سید محمد عباس کاظمی نے جناب جسٹس ریٹارڈ سید جعفر شاہ ساحب کو پی ٹی آئی گلگت بلتستان کا صدر مقرر ہونے پر انہیں مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ ان کا تقرر بلتستان والوں کی دیرینہ خواہش تھی اور جس کے لئے ہم نے اخبارات کے ذریعے جناب چیر مین صاحب سے بار بار درخواست کی تھی۔عباس کاظمی نے مزید کہا کہ مرکزی چیف آرگنائزر سیف للہ خان نیازی کی طرف سے جاری شدہ تنظیمی نوٹیفیکش میں گلگت بلتستان کی کابینہ کے افراد کے تقرری میں بلتستان کے ساتھ نا انصاافی سے کام لیا ہے اور اس کابینہ میں بلتستان کے دو اہم شخصیات کو دوسری کیٹیگری کے عہدے دئے ہیں جن پر رہ کر وہ پارٹی کے لئے زیادہ فعال کردار ادا نہیںکرسکیں گے جس سے آنے والے اسمبلی کے انتخابات میں پارٹی کوکوئی خاطر خواہ فائدہ ہو۔ اس کے علاوہ بلتستان میں پارٹی کے کئی قدآور شخصیت کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان شخصیات میں شیخ مہدی سرباز جو دو دفعہ اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں اور بہت تجربہ کار ہیں ‘ سینیر ممبر ایڈووکیٹ ذاکر حسین اور غلام نبی ایڈووکیٹ ‘ نوجوان اور متحرک ایڈووکیٹ شاکر ریحان ‘ سید مہدی شاہ جو کہ بلتستان میں پارٹی کے اولین بانیوں میں سے ایک ہیں کے علاوہ محترمہ کلثوم فرمان جیسی تجربہ کار اور با اثر شخصیات قابل ذکر ہیں۔یہ بات واضح نظر آتی ہے کی جس جس نے اسلام آباد جاکر سیف اللہ نیازی کو اپنی صورتیں دکھائی وہی عہدے حاصل کرنے میں کامیاب ہوے ۔نیازی صاحب کو چونکہ گلگت بلتستان کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر ہے لہذا وہ کم از کم بلتستان کے سلسلے میں بڑی غلطی کربیٹھے ہیں۔جس کا نتیجہ آنے والے اسمبلی کے انتخابات میں سامنے آئیں گے۔ عباس کاظمی نے مزید کہا کہ بلتستان کے معاشرتی رویہ میں عام طور پر یک رنگی نمایاں ہوتا ہے جس کا لازمی اثر اسمبلی کے نتائج پر پڑتا ہے ۔ پچھلی دفعہ بلتستان سے پی پی پی کے زیادہ ممبر منتخب ہوے جس کی بدولت جی بی میں پی پی پی کی حکومت بنی اور سید مہدی شاہ وزیر اعلیٰ بن گئے ۔ اس وقت مسلم لیگ کی جو حکومت ہے اس کا بھی سہرا بلتستان والوں کے سر ہے کیوںکہ تاریخ میں پہلی بار بار بلتستان سے مسلم لیگ کے زیادہ نمائندے کامیاب ہوے ۔اگر مرکزی قیادت اور نیازی صاحب نے ان حقائق کو مد نظر رکھا ہوتا اور بلتستان کے سینیئر اور قدآور شخصیات اور اچھی شہرت اور کردار کے افراد کو با اختیار عہدوں پر مقرر کرتے تو آنے والے انتخابات میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت بننے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی لیکن اب یہ مشکل نظر آتا ہے ۔مزید برآں پی پی پی اور مسلم لیگ کے ایجنٹوں نے تحریف انصاف میں گھس کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردئے اور اپنے اپنے گروپس بنائے جس کی وجہ سے بلتستان میں تحریک انصاف کی گراف بہت نیچے آگیا ہے ۔ میں موجودہ صدر جناب سید جعفر شاہ صاحب کومشورہ دوں گا کہ ان تلخ حقایق پر غور کریں اور نیازی ساحب نے جو غلطیاں کی ہیں انہیں درست کرنے کے لئے ان سے بات کریں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website