سکردو(ٹی این این) ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال سکردو جہاں بلتستان کے چاروں اضلاع کے مریضوں کو سال بھر رش رہتا ہے۔ ہسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی اور مریضوں کو ڈاکٹروں کی جانب سے اپنے نجی دوا خانوں کی طرف ریفر کرکے علاج کے نام پر کھال اُتارنے کی خبریں سال بھر کا مسلہ ہے ۔مسلسل عوامی شکایات اور ڈاکٹروں کی اس من مانی کو دیکھ کر گزشتہ روز کمشنر بلتستان نے ڈاکٹروں کی حاضری رجسٹر روزانہ کی بنیاد پر چیک کرنے کی ذمہ داری ضلعی تحصلیدار کو سونپ دی تھی جسے ڈاکٹر اپنی توہین سمجھتے ہیں۔
گزشتہ دو روز سےڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتال سے تنگ مریضوں اور تیمارداروں نے بھی آج سکردوہسپتال روڈ پر احتجاج شروع کر دیا، مریضوں کے ہڑتال کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی شہر بھر سے سیاسی اور سماجی شخصیات نے مریضوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہسپتال روڈ پہنچ گئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہہڑتال کے باعث کس بھی مریض کی جان چلی جائے تو ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹروں کو جب اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہو اور سرکاری سے تنخواہ لیکر ذاتی کلینک میں ذیادہ وقت گزارنے میں لگ جاتے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اُن کو ڈیوٹی پر پابند کریں اور تحصیلدار کے زریعے حاضر ی چیک کر نے کا عمل اچھا اقدام ہے لیکن حاضری بہتر بنانے کے نظام پر ڈاکٹروں کا احتجاج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا