کھرمنگ( ٹی این این) گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی گلگت بلتستان کے نالہ جات سے طغیانی طوفان کا آنا اور طوفان کے نتیجے میں عوامی املاک اور زرعی زمینوں کا بہہ جانا معمول کی بات ہے ۔لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں ڈزاسٹر منجمنٹ کا ادارہ صرف گلگت میں ایک دفتر اور ٹیلی فون کی حد تک فعال نظر آتا ہے۔ اس ادارے کے پاس نہ ہی وسائل ہے اور نہ ہی تجربہ کار ملازم اور ہیوی ایکوپمنٹ ۔ اس وجہ سے ہرسال پورے گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اخباری بیانات کی حد تک بحالی کا کام ہوتا ہے۔
ضلع کھرمنگ منٹھوکھا ندی پورے ضلع میں خوفناک طوفانی طغیان کے حوالے سے مشہور ہے اور آج تک حکومتی سطح پر اس ندی کے کنارے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ (بند) واٹر شیڈ کی کسی نے کوشش نہیں کی البتہ اس ندی بند لگانے کے نام کر گزشتہ دہائیوں سے سرکاری اور نجی سطح کے لاکھوں فنڈز سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر چند افراد کا نذر ہوتے رہے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ضلع کھرمنگ میں قانون احتساب کا وجود ہی نہیں یہی وجہ کہ بند کے نام پر سرکاری اور غیر سرکاری فنڈز ہڑپ کرنے والے آج بھی سرکاری افسران کے گرد طواف کرتے نظر آتا ہے۔ ندی کے اطراف پانی کی کٹائی کے خطرات سےمیڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے گرمیوں سے پہلے ہی ضلعی انتظامیہ کو عوام کی جانب سے اگاہ کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر کھرمنگ نے اس ندی کے اطراف کا کئی بار دورہ بھی کیا لیکن عملی طور پر پانی کے کٹاو کو روکنے کیلئےمناسب اقدام اُٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ندی میں طوفانی طغیان کا راج ہے جو منٹھوکھا آبشار سے لیکر نیچے لب دریائے سندھ تک اپنی مرضی سے عوامی زمینوں کی دل کھول کر کٹائی کرتے ہوئے اہل علاقہ کے آنکھوں کے سامنے سال بھر کی محنت دریا برد ہو رہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اگر اس حوالے سے کچھ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو چیف سکریٹری کو بھی چاہئے کہ اس علاقے کا دورہ کریں اور عوامی املاک کی کٹائی روکنے اور مستقبل کیلئے مضبوط بند باندھنے کیلئے انظامیہ کی خاموشی کا نوٹس لیکر علاقے کے عوام کی زمینوں اور پھل دار اور غیر پھل دار درختیں طغیانی طوفان کی وجہ سے دریا برد ہونے سے بچانے کیلئے ایمرجنسی بنیاد پر فنڈز جاری کریں اور نقصانات کا ازالہ کریں۔
کھرمنگ منٹھوکھا ندی کاطغیانی طوفان بے قابو،انتظامیہ غائب، عوام نے چیف سکرٹیری سے بڑا مطالبہ کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا