سکردو(ٹی این این) سکردو کمشنر آفس میں ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کی میٹنگ کے دوران اچانک واپڈا ٹرپ ہونے پر چیف انجینئر محکمہ برقیات نے سب انجینئر کو معطل کردیا۔ زرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ واپڈا محکمہ برقیات کے احکامات کے تابع نہیں ہے کمشنر آفس میں آفسران بالا کے سامنے شرمندگی اور بے بسی پر تمام غصہ اپنے ہی مذکورہ بالا انجینئر پر نکال دی یاد رہے کہ انجنیئر محکمہ ہذا میں واحد سب انجینئر ہے جو پورے چوبیس گھنٹہ ڈیوٹی دیتی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ پورے سکردو شہر کو دو سب انجینئر چلاتے ہیں عوامی کی جانب سے بجلی بحران پر احتجاج کے دوران مذکرات کے لیے ان اشخاص کو آگے کیا جاتا ہے محکمہ برقیات کے چند ملازمین کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ گدھے کی طرح کام کرنے والے کو انعام و اکرام سے نوازنے کے بجائے سرزنش اور معطلی جبکہ کام چور اور مہا کرپٹ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس ادارے کے اوپر عام آدمی کبھی اعتماد نہیں کرتے ہیں ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کئی سال پہلے چیف انجینئر برقیات کا جواں سال بیٹا ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگیا تھا تب سے موصوف نفسیاتی طور پر ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہے یہی وجہ ہے کھبی سیکرٹری کے احکامات نظر انداز کرتے ہیں تو کبھی ٹھیکہ داروں کے ساتھ الجھتا رہتا ہے جس کی تازہ مثال اولڈینگ تا سرمیک ٹرانسمیشن لائن ٹھیکہ چیف انجینئر کے پسندیدہ ٹھیکیدار کو نہ ملنے پر کئی ماہ سے ٹینڈر کو روکے رکھا اخبارات اور دیگر ذرائع سے سیکرٹری برقیات تک معاملہ پہنچ گئے جس کے بابت باقاعدہ انکوائری کے لیے کمیشن بٹھایا گیا کمیشن نے چیف انجینئر کے ہٹ دھرمی کو رپورٹ کا حصہ بنا کر رپورٹ سیکرٹری برقیات کو جمع کر دیا مذکورہ سیکرٹری نے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پری کوالیفکیشن کے عمل کو شفاف بنا کر شفاف ٹینڈر کو یقینی بنائیں تاہم ٹینڈر تو نہ ہو سکا متعلقہ پروجیکٹ کو مختص فنڈ اب واپس ہونے کی مستند خبر ہے شنید ہے کہ اب یہ جون کے بعد دوبارہ ٹینڈر ہوگا چیف انجینئر برقیات کی انا کی وجہ سے چار ماہ سے التواء میں رہنے کے بعد ٹرانسمیشن لائن منصوبہ اب کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے سکردو شہر میں بجلی کا بحران بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے کاروباری اداروں کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
چیف انجینئر برقیات بلتستان نے کمشنر کے سامنے اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے سب انجینئر کو بڑی سزا دی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا