اسلام آباد(ٹی این این) قدرتی حسن سے مالامال گلگت بلتستان میں سیاحت کا موسم شروع ہوتے ہی پورے خطے میں چار چاند لگ جاتی ہے۔ سیاحوں کی مسلسل آمد سے جہاں خطے کی خوبصورتی دنیا کے سامنے آشکار ہوجاتی ہے وہیں گلگت بلتستان کے شہریوں کو معاشی حوالے سے بھی کافی فائدہ ہوتا ہے۔ گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے اور سیاحت کو اہم صنعت کے درجہ دیکر لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں تک مُلکی اور غیرمُلکی سیاحوں کو جانے کی اجازت ملنے میں توقع کیا جارہا تھا کہ اس سال پاکستان بھر سے ذیادہ تر سیاح مری کاغان ناران اور دیگر سیاحتی مقامات سے ذیادہ گلگت بلتستان کا رُخ کرے گا لیکن بابو سر ٹاپ کا مسلسل بند رہنا گلگت بلتستان میں سیاحت کی صنعت کیلئے بہت ذیادہ نقصان ثابت ہورہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر سے ذیادہ تر سیاح ناران کاغان گھوم پھر کر بابو سر ٹاپ کے راستے سے گلگت بلتستان میں داخلے ہوتے ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ سے بابو سر ٹاپ کھولنے کے نام پر عوام اور گلگت بلتستان آنے کے خواہش مند سیاحوںصرف اُمیدوں پر رکھا ہوا ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ناران سے بابوسر ٹاپ تک روڈ پر پڑی برف ہٹا دیا گیا مگربابوسر سائڈ پر درہ بابوسر سے برف ہٹانے کیلئے کام جاری آئندہ چوبیس گھنٹے میں بابوسر روڈ دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھلنے کا امکان ہے ۔
بابو سر ٹاپ گلگت بلتستان تک سیاحوں کی رسائی کیلئے واحد شاہراہ ہے کیونکہ دوسری طرف شاہراہ قراقرم پر تعمیراتی کام جاری ہونے کی وجہ سے صرف گلگت بلتستان کے مسافر گاڑیاں مجبوری کے عالم میں سفر کرتے ہیں لیکن بابو سر ٹاپ کھولنے کے حوالے سے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کی عدم توجہی سے مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔ مسلم لیگی اہم ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں گلگت بلتستان میں ذیادہ سے ذیادہ سیاح دیکھنا پسند نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دو ماہ قبل لائن آف کنٹرول تک سیاحوں کو رسائی دینے کے نوٹفکیشن کے باجود محکمہ سیاحت گلگت بلتستان دور دراز سیاحتی مقامات پر سہولیات کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے اور پیک وقت میں وزیر اعلیٰ نے سکرٹیری سیاحت کو بھی تبدیل کرکے اپنے خاص شخص کو سیکرٹیری سیاحت کے عہدے پر لگایا ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن گلگت بلتستان میں سیاحتی صنعت کو بھی دیگر سرکاری اداروں کی طرف سیزن میں کرپشن کا اڈا بنانا چاہتا ہے۔
گلگت بلتستان میں سیاحت کی صنعت کو زوردار جھٹکا،وزیر اعلیٰ کی ناکامی یا سازش کا حصہ ؟
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا