چلاس (قادر حسین)چلاس میں المناک حادثہ کھنبری ویلی سے تعلق رکھنے والے 7افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ضلع دیامر کے ہیڈ کوارٹر چلاس سے 20کلومیٹر دور تھور چھلموک کے مقام پر مسافر گاڑی دریائے سندھ میں گرنے سے 7افراد جاں بحق جبکہ تین افراد شدید زخمی ہوگئے ۔تفصیلات کے مطابق ضلع دیامر کی تحصیل داریل کا علاقہ کھنبری سے سواریوں کو لیکر چلاس آنے والی ٹیوٹا گاڑی تھور چھلموک کے مقام پر اچانک ڈرائیور سے بے قابو ہوکر دریائے سندھ میں جاگری، جس کے نتیجے میں 7افراد موقع پر جاں بحق اور تین افراد شدید زخمی ہوگئے ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122،دیامر پولیس اور مقامی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور پہلے مرحلے میں زخمیوں کو کھائی سے نکال کر چلاس ہسپتال منتقل کر دیا، اور بعد ازاں جاں بحق افراد کی نعشوں کو ہسپتال منتقل کیا، پولیس نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاشیں لواحقین کی حوالے کر دی۔حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں اوتیل، ٹیکا خان، جاوید، ثناء اللہ، سید رحمت، عبدالواہاب اور فرزند اوتیل شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں ہادی، آسبر اور نور احمد شامل ہیں۔ حادثے کی خبر دیامر بھر میں جنگل میں آگ کی پھیل گئی اور سوگ کا سماں رہا۔اندوہناک حادثے پر ہر انکھ اشک بار رہی دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں نے حادثے پر گہرے دکھ اور رنج و غم کا اظہار کیا۔عوامی حلقوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایکسائز اینڈ ٹیکسیش ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کریں کہ وہ دیامر کے نالہ جات میں چلنے والی گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کی فٹنس چیک کریں اور ناجائز لوڈ ڈال کر چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ کوئی حادثہ پیش نہ آسکے۔
ضلع دیامر چلاس میں المناک حادثہ،سات افراد لقمہ اجل بن گئے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا