سہولیات کا فقدان، خستہ حال سڑکیں حکومت غائب ، سیاحت کی سرزمین گلگت بلتستان میں سیاحوں کارش۔

0 0

سکردو(ٹی این این) ملک بھر سے سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کرلیا ہے ہوٹلوں میں جگہ نہ ملنے کی وجہ اکثر علاقوں میں سیاحوں نے پر فضا مقامات پر خیمے نصب کردئیے ہیں۔سیاحوں کی آمد سےگلگت بلتستان کے تفریحی مقامات کی رونقیں بڑھ گئیں ہیں، ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے سیاحوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان زمین پر جنت کا ایک ٹکرا ہے یہاں آکر ایسا لگا کہ ہم زندہ جنت میں پہنچے ہیں۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں آب وہوا,ماحول,قدرتی حسن اپنی مثال آپ ہے اور لوگ بے حد مہمان نواز ہیں ہوٹلوں کے ریٹس نہایت ہی مناسب ہیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کے دیگر شہروں کی نسبت اس سال گلگت بلتستان میں سیاحوں کی آمد میں ناقابل یقین طور پر کمی آئی ہے۔ ہنزہ ہوٹل ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن راجہ حسین کے مطابق گزشتہ سالوں کے مقابلے میں گلگت و ہنزہ میں 60 فیصد کم سیاح پہنچے اور یہاں موجود ایک ہزار کے قریب ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں سے ماسوائے چند لگژری ہوٹلوں کے فل بکنگ والی صورتحال نہیں تھی۔راجہ حسین کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ باآسانی رسائی نہ ہونا ہے۔ ان کے مطابق ہر سال جون کے پہلے ہفتے میں ناران مانسہرہ سے بابوسر ٹاپ روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا جاتا ہے جہاں سے سیاح سہولت کے ساتھ گلگت و ہنزہ پہنچ جاتے تھے۔مگر اس سال ابھی تک بابوسر ٹاپ روڈ نہیں کھولی گئی جبکہ دوسری جانب شاہراہ قراقرم پر کئی مقامات پر سی پیک اور داسو ڈیم کی وجہ سے تعمیراتی کام شروع ہے جہاں ٹریفک کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دی جاتی ہے۔جبکہ پی آئی اے کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے بھی سیاحوں کے لیے گلگت اور ہنزہ آنا آسان نہیں رہا۔ راجہ حسین کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے ہنزہ کے لیے فضائی سفر کا کرایہ جو گذشتہ سال آٹھ سے دس ہزار تک تھا اس سال 30 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔
جبکہ دوسری طرف بلتستان کے تینوں اضلاع میں اس سال سیاحوں کی آمد میں قدرے بہتری آئی ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت اس سال بلتستان کے تینوں اضلاع میں سیاحوں کے رش نظر آتا ہے لیکن محکمہ سیاحت اور تین اضلاع کے انتظامیہ کا کردارمایوس کُن نظر آتا ہے۔ بلتستان کے تینوں اضلاع میں ذیادہ تر سیاحتی مقامات پر باتھ روم تک کی سہولت موجود نہیں اس وجہ سے فیملی کے ساتھ آنے والے سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے باجود بلتستان آنے والے سیاح خوش نظر آتا ہے۔ سیاحوں کو ہوٹلوں میں کھانوں کے نرخ پر بھی شکوہ ہے لیکن اس حوالے سے بھی حکومتی کردار قابل افسوس نظر آتا ہے۔ بلتستان آنے والے ایک سیاح نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سکردو روڈ پر کام کی وجہ سے تھوڑی دقت کاسامنا کرنا پڑا تاہم اور کوئی مسائل نہیں ہیں روڈ پر جس رفتار سے کام جاری ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ شاہراہ بہت جلد مکمل ہوگی زیر تعمیر شاہراہ بلتستان دیکھنے کا مزہ ہی نرالہ ہے ہم اپنے دوستوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ اگر سیر کرنی ہے تو گلگت بلتستان کی کریں یہاں کے لوگ بے پناہ محبت کرنے والے ہیں جگہ جگہ پر استقبال کر رہے ہیں، ہم لوگوں کی مہمان نوازی کو فراموش نہیں کر سکتے۔سیاحوں کی جانب سے یہ بھی شکوہ کیا جارہا ہے کہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے دیگر روڈ پر سائن بورڈز کی تنصیب اور سروس لائن نہ ہونے کی وجہ ڈائرکیشن کی تلاش کیلئے کافی مشکلات درپیش آتا ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ ہر ضلع کیلئے ڈائرکیشن بورڈ اور خطرے والے جگہوں پر انتبائی نوٹس لگائیں تاکہ حادثات سے بچ سکے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website