کھرمنگ(قاسم قاسمی)
محکمہ برقیات کھرمنگ کی نااہلی۔کھرمنگ ماہ مبارک رمضان میں بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔کھرمنگ باغیچہ اور ملحقہ علاقے کئی دنوں سے تاریکی میں ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جبکہ باغیچہ کے گردنواح میں کئی بجلی گھروں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔محکمہ بجلی گھروں کی مرمت کے نام پر سالانہ کڑوڑوں روپئے مختص کی جاتی ہیں مگر بجلی گھروں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔
محکمہ کی ناقص کارکردگی اور کرپشن کی واضح مثال 250 کے وی بجلی گھر غندوس ، 600 کے وی بجلی گھر غویس ، 600 کے وی بجلی گھر شریٹینگ اور 250 کے وی بجلی گھر کھرمنگ اولڈینگ ہے ان بجلی گھروں کو یا تو بلکل بند رکھا ہوا ہے یا ان سے اپنی کپیسٹی کے مطابق بجلی پیدا نہیں ہو رہا کھرمنگ کے تمام نالا جات میں بجلی گھر بنا ہوا ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا جس کی ایک واضح مثال غندوس بجلی گھر ہے یہ بجلی گھر سڑ رہے ہے مگر محکمہ کو کوئی ٹس سے مس نہیں اس بجلی گھر کے 250 کے وی ٹرانسفرمر کو محکمہ کے کچھ عملہ اور علاقہ کے کچھ کرپٹ لوگوں کے ملی بھگت سے گنوخ میں نصب کیا ہے۔
اسی طرح غویس بجلی گھر پر کڑوروں خرچہ کرنے کے بعد مکمل بند رکھا ہوا ہے ایک دن بھی نہیں چل سکا۔
600 کے وی بجلی گھر شریٹینگ سے طورغون نالا کو پورا نہیں ہو رہا جبکہ انہیں بجلی گھروں پر سالانہ لاکھوں کے بجٹ استعمال ہو رہا ہے۔
ان باتوں کا اظہار پی ٹی آئی رہنما ماسٹر محمد یوسف باغیچہ نے اپنی ایک بیان میں کہا انکا کہنا تھا کہ نیب ان ہونے والے کرپشن پر ایکشن لیں۔
نیب پنجاب اور سندھ میں ایک ایک روپئے کے کرپشن پر ریفرنسز دائر کرتے ہیں مگر گلگت بلتستان میں کڑورں کے غبن پر کوئی پرسان حال نہیں اس سے لگتا ہے گلگت بلتستان کو کرپٹ مافیا کے حوالے کر رکھا ہے۔
کھرمنگ محکمہ برقیات کی بجلی کی قلت قابو نہ کرنے کی وجہ سامنے آگئی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا