گلگت(پ،ر)گلگت بلتستان کے زمین جنگلات کے بعد اب معدنیات کے حوالے سے بھی گہری سازش شروع ہوچکی ہے.فیسوں میں اضافہ اور دیگر خودساختہ قوانین کے ذریعے سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس شعبے سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے.ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بنائے گئے مائیننگ رولز میں لوکل بنیادوں پر شدید تحفظات تھے لیکن اس بار مکمل طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو گلگت بلتستان کے معدنیات پر قبضے کی راہ ہموار کی جارہی ہے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس بارے 2017 میں شدید احتجاج اور جدوجہد کے ذریعے اس مطالبے کو وفاقی اداروں تک پہنچایا کہ گلگت بلتستان کے ہر لیز کے اندر لوکل افراد کو شریک کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان میں روزگار کے مواقع فراہم کیئے جاسکیں. عوامی ایکشن کمیٹی ہی کی جدوجہد کے بدولت معدنیات کے شعبے میں بیشتر اختیارات گلگت بلتستان منتقل ہوئے ہیں پہلے گلگت بلتستان کے لوگ اپنے ہی پہاڑوں کے لیز کیلئے اسلام آباد میں خوار ہورہے ہوتے تھے اب وفاق سے لوگ لیز کے حصول کے لئے گلگت آتے ہیں.
انہوں نےکہا کہ بڑی امید سے یہ شعبہ گلگت بلتستان منتقل کرایا گیا تھا لیکن صوبائی حکمرانوں وفاق سے بھی زیادہ مظالم ڈھانا شروع کر دیا ہے وزیر اعلی گلگت بلتستان اور گورنر گلگت بلتستان فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور اس شعبے میں مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں.
انہوں نےکہا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ اس شعبے میں اپیلنگ اتھارٹی وزیر اعلی گلگت بلتستان یا متعلقہ منسٹر کو بنایا جائے مگر شاہ کے وفادار حکمرانوں نے گلگت بلتستان کونسل سے اختیارات اٹھانے کے بعد چیف سکریٹری کے حوالے کردیئے جس خمیازہ آج عوام بگھت رہے ہیں.انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف سکریٹری گلگت بلتستان اپنی مرضی کے قوانین لانے سے احتراز کرے اور اس شعبے سے منسلک تمام لوکل ایسوسیشنز کی مشاورت سے گلگت بلتستان سطح پر رولز مرتب کیئے جائیں. بصورت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی ایسے کسی فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کریگی جس میں لوکل افراد کا استحصال ہو اور یکطرفہ ٹریفک چلائی جائے گی.
خودساختہ قوانین کے ذریعے سےمقامیوں کومعدنیات شعبے سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا