سکردو (ٹی این این) پاکستان سٹیزن پورٹل پر گلگت بلتستان کے عوامی شکایت مکمل طور پر انداز ہورہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اگر کوئی شہری اپنے علاقے کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں تو اُس مسائل کی حل کیلئے کاروائی کے بجائے اُسی محکمے کے افسران بالا جو ان مسائل کے اصل ذمہ دار ہیں کی زبان میں جواب دیا جاتا ہے۔ اس معاملے کو لیکر عوام میں سخت تشویش پایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بلتستان کے تینوں اضلاع کے کئی شہریوں کی جانب سے اس خدشات کا اظہار کیا ہے کہ سٹیزن پورٹل والے بھی گلگت بلتستان کے مسائل سننے کےجائے بیوروکریسی اور مقامی کرپٹ افسران کی زبان بولنے لگ گیا ہے عوام کی جانب سے درج کردہ شکایات کی چھان بین کیلئے کوئی میکنزم نہیں بلکہ اُسی ادارے کی جانب سے جواب دیا جاتا ہے کہ آپکا مسلہ حل ہوگیا ہے جبکہ حقیقت میں مسائل جوں کے توں نظر آتا ہے۔ ہمارے نمائندے کو حاصل معلومات کے مطابق ضلع کھرمنگ سے کچھ شہریوں نے شکایات درج کیا کہ محکمہ برقیات کے ملازمین شارٹ سرکٹ سے بچنے بغیر کسی معاوضے کے عوامی درختوں کا کاٹ رہا ہے جبکہ قانون کے مطابق اگر کیس کے املاک کے اوپر سے بجلی کا ہائی وولٹیج تار گزر رہا ہے تو برقیات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ادارہ اس حوالے سے سیفٹی کے اقدامات کو یقینی بنائیں لیکن جو شکایت کیا اسکا جواب آیا کہ بجلی کے تمام تار سڑک کنارے سے گزر رہا ہے اور عوام نے تجاوزات کرکے تاروں کے نیچے درخت لگائی ہے جسے بغیر معاوضہ کاٹ دیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں بجلی کے ہائی ولیٹیج تاریں سڑک کے کنارے نہیں بلکہ عوامی املاک اور محلوں کے درمیان سے گرز رہا ہے لیکن عوام معاشرتی لحاظ داری میں ملازمین کو تنگ نہیں کرتے. اسی طرح دیگر اضلاع شہریوں نے خالصہ سرکار اور نمبرداری سسٹم کی قانونی حیثیت کے حوالے سے شکایت درج کیا تو ہی جواب آیا جو گلگت بلتستان میں حکومت کا بیانیہ ہے۔ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے شدید خدشات پایا جاتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں ایک طرح حکومتی سطح پر کرپشن اور اقرباء پروری کا بازار گرم ہے وہیں عام آدمی وزیر اعظم سٹیزن پورٹل پر بھی شکایت کرتے ہیں تو وہی جواب آجاتا ہے جو عموما علاقے کا نمبردار، تھانیدار، تحصیلدار عوام کو سُنا کر خاموش کرتے ہیں.
سٹیزن پورٹل پر گلگت بلتستان کے مسائل مکمل نظر انداز، شکایات کا ازالہ خواب بن کر رہ گیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا