نگر(ٹی این این نامہ نگار) گلگت بلتستان پولیس کے حوالے سے عوامی خدشات اور پولیس کے سپاہیوں کے اپنے علاقوں میں سادہ لوح عوام کے ساتھ کھلے عام بدمعاشی اور پولیس کی نوکری کا رعب دکھا کر غریب عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ تو بہت پرانی ہے ۔لیکن ضلع نگر پولیس نے تو بدمعاشی کی انتہا کردی۔ تفصیلات کے مطابق ضلع نگر چھلت تھانےکا پولیس سپاہی ذوالفقار کیغنڈہ گردی کرتے ہوئے لیاقت حسین نامی ایک شہری کو موٹر سایئکل پر لفٹ نہ دینے پر گھر سے اٹھا کر تھانہ میں جسمانی تشدد کر کے 5گھنٹے لاک اپ میں بند کردیا۔شہری کی جانب سے پولیس کو دی جانے والی شکایتی درخواست میں اُنہوں نے الزام لگایا ہے کہ مذکورہ پولیس نے عہدے کا ناجائز فائدۃ اُٹھا کہ نہ صرف اُنہیں زدکوب کیا بلکہ حوالات سے یہ دھمکی دیکر چھوڑا کہ آئندہ اگر پولیس والوں کو لفٹ نہیں دیا تو ہاتھ پیر توڑ دیا جائے گا۔ شہری نے
آئی جی پولیس اور ایس پی نگر سے درخواست ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس سپاہی کے خلاف ایف آئی آر درجہ کر کے قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ عوامی حلقوں نے آئی جی گلگت بلتستان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ایک طرح سے عوامی محافظ ہوتے ہیں لیکن پولیس والوں کو ہر ضلع میں خود کو علاقے کا غنڈہ سمجھنا محکمہ پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے لہذا ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پولیس جوانوں کی اخلاقی تربیت کریں اور اُنہیں بتائیں کہ وہ بدمعاش نہیں بلکہ عوامی خدمتگار ہیں۔
ضلع نگر پولیس بدمعاش بن گئے،لفٹ نہ دینے پر شہری کو گرفتار کرکے بدترین تشدد ۔عوام کا آئی جی سے بڑا مطالبہ ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا