خپلو(ٹی این این) گانچھے حد بندی تنازعہ کریس گون اور کورو کے عوام کے مابین تصادم درجنوں زخمی پتھروں ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال واقعہ ضلعی انتظامیہ گانچھے کی مبینہ غفلت کے باعث پیش آیا ذرائع ۔مذکورہ بالا قصبوں کے مابین حد بندی تنازعہ کے سلسلہ میں پہلے ہی فریقین نے درخواست دے رکھی تھی تنازعہ اس وقت پیش آیا کہ ایفاد نے کچھ پروجیکٹس ایروت نامی جگہ کو آباد کاری کے لئے رکھا گیا تھا کاغذات مال کی روشنی میں متنازعہ جگہ ایروت جوکہ وسیع و عریض میدان ہے کورو والوں کے نام چراگاہ کے طور پر درج ہے اس پر گون والوں نے اعتراض اٹھایا کہ کورو والے جعلی کاغذات کو بنیاد بنا کر ہماری چراگاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس پر معاملہ فریقین نے سابق ڈپٹی کمشنر عدیل حیدر کو درخواست گزاری انہوں نے محکمہ مال کو تحقیقات کرکے رپورٹ مرتب کرنے کا حکم دیا رپورٹ تو ہوئی مگر موقع پر جاکر نشاندہی نہیں کی جس کے باعث فریقین کے مابین تناو بڑھ رہی تھی ضلعی انتظامیہ کی کاہلی کے سبب یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا بر وقت کاغذات مال کی روشنی میں حدود کا تنازعہ حل ہوتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ درجنوں افراد کے خون بہہ گیا کورو کے سرکردہ شخصیات حاجی غلام نبی حاجی احمد حاجی حسین وعاشق وغیرہ نے ایس ایچ کریس عنایت حسین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جھگڑے کے پیچھے ایس ایچ او کریس کا ہاتھ ہے ان کی ایماء پر گون کے لوگوں نے کورو کے چراگاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئ جس پر کورو کے عوام نے واگزار کرارہا تھا گون والے پہلے ہی تاک میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اچانک ہلہ بول دیا جس پر عوام ایک دوسرے سے لڑ پڑیں ایس ایچ او تحت قانون کارروائی عمل لاتا تو یہ افسوس ناک واقعہ پیش ہی نہ آتی علاقائی ایس ایچ او کا تعلق کریس گون سے ہیں علاقے کی وفاداری ایس ایچ او مذکور قانونی حد بندیاں ہی بھول گئے مذکورہ ایس ایچ او کے بارے میں ہم نے اپنی تحفظات کا اظہار پہلے ہی کر چکے تھے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہی مطلع کیا گیا تھا تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ۔ آئی جی گلگت بلتستان ڈی آئی جی بلتستان ڈویژن سے کورو کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا شخص کے اوپر فوری مقدمہ درج کیا جائے کریس گون کے عوام کا کہنا ہے کہ کورو والے ہمارے چراگاہ پر زبردستی قبضہ جمانا چاہتے ہیں ہم انہیں زبردستی قبضہ نہیں کرنے دیں گے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا